اسلام آباد پر دوبارہ چڑھائی ہوئی تو سختی سے روکیں گے،طلال چوہدری
اسلام آباد کی جانب پیش قدمی آئینی حلف اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتی ہے
اسلام آباد پر دوبارہ چڑھائی ہوئی تو سختی سے روکیں گے،طلال چوہدری
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی گئی تو حکومت اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی اور ایسا ردعمل دیا جائے گا کہ آئندہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے پہلے سوچے گا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومتی وسائل یا طاقت استعمال کرتے ہوئے کسی شہر پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی جانب پیش قدمی آئینی حلف اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی توہین عدالت کا باعث بن سکتی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ تحریک انصاف کی احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق حکومت پہلے بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات دیکھ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد احتجاج کے نام پر دارالحکومت کی جانب پیش قدمی نہیں کی جاسکتی اور کسی صوبے کی انتظامی طاقت وفاق کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
طلال چوہدری کے مطابق جب ملک میں حالات معمول پر آنے لگتے ہیں تو دوبارہ سیاسی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج یا سڑکیں بند کرنے سے جیل میں موجود کسی قیدی سے ملاقات ممکن نہیں، کیونکہ ملاقاتیں جیل کے مقررہ قواعد کے مطابق ہی ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے گزشتہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعض اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کے صوبائی صدر کے اسلام آباد سے متعلق بیان پر بھی تنقید کی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید کہا کہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے، تاہم وفاقی حکومت سیاسی طریقے سے معاملات حل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کسی بھی معاملے میں جلد بازی سے کام لینے کے بجائے سیاسی لوگوں کو بات چیت اور مسئلے کے حل کا موقع دینا چاہتی ہے۔