بلوچستان میں پاکستان کسٹمز اسٹیشن پر مسلح افراد کا حملہ، سپاہی زخمی
نامعلوم مسلح افراد نے دفتر کو آگ لگائی، مختلف سمتوں میں اندھا دھند فائرنگ کی
فائل فوٹو
بلوچستان میں پاکستان کسٹمز اسٹیشن مند، ردیہو بارڈر پر متعدد نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کسٹمز سپاہی محمد سراج زخمی ہوگئے۔
مسلح افراد زبردستی کسٹمز اسٹیشن میں داخل ہوئے، تقریباً چار کمروں پر مشتمل دفتر کا دروازہ توڑا اور عمارت کو آگ لگادی، مختلف سمتوں میں اندھا دھند فائرنگ بھی کی گئی۔ حملے کے دوران پاکستان کسٹمز کے سپاہی محمد سراج کے دائیں بازو پر گولیاں لگیں، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے مطابق قریبی ایف سی 165 ونگ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے موقع پر رسپانس کیا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ تاحال کسی مزید جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ واقعے سے قبل کے دنوں میں کسٹمز اہلکاروں کو موصول ہونے والی دھمکیوں سے منسلک ہوسکتا ہے۔ یہ دھمکیاں مند میں کی جانے والی انسدادِ اسمگلنگ اور کسٹمز انفورسمنٹ کارروائیوں کے بعد موصول ہوئی تھیں۔
ان کارروائیوں میں تربت جانے والے ایل پی جی باؤزرز کو متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی تک روکنا، جبکہ مقامی اشیائے ضروریہ اور خراب ہونے والی اشیاء کی نقل و حرکت سے متعلق کسٹمز قوانین اور ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا شامل تھا۔
ان انفورسمنٹ اقدامات کے بعد کسٹمز اسٹیشن پر تعینات اہلکاروں کو مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔ تاہم حملے کے اصل محرکات اور واقعے کے تمام حالات تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں۔
حملہ آوروں کے کالعدم تنظیم بی ایل اے سے وابستہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم اس مرحلے پر ان کی وابستگی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
زخمی کسٹمز اہلکار کو ابتدائی طبی امداد اور علاج کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال تربت منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں انہیں کراچی ریفر کردیا گیا۔ متعلقہ کلکٹریٹ کی جانب سے ان کی فوری منتقلی اور مزید علاج کے لیے مناسب ہسپتال میں داخلے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔
پاکستان کسٹمز نے اپنے اہلکاروں اور دفتر پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ پاکستان کی اقتصادی سرحدوں کے تحفظ اور سرحد پار اسمگلنگ سمیت دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
پاکستان کسٹمز سیکیورٹی کی صورتحال سے نمٹنے، انفورسمنٹ کو مزید مؤثر بنانے اور ابھرتے ہوئے خطرات کا مؤثر جواب دینے کے لیے فرنٹیئر کور اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
محکمہ نے کہا کہ ایسے واقعات کے باوجود پاکستان کسٹمز اپنے قانونی فرائض کی انجام دہی کے عزم پر قائم ہے اور اسمگلنگ کی روک تھام، قانون کے نفاذ اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔