سری لنکا: ایسٹر حملوں کے مقدمے میں 15 افراد مجرم قرار
حملوں میں 270 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں 45 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔
سری لنکا: ایسٹر حملوں کے مقدمے میں 15 افراد مجرم قرار
سری لنکا کی ہائی کورٹ نے 2019 کے ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے مقدمے میں 15 افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے، جبکہ 9 ملزمان کو بری کردیا گیا۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق مجرم قرار دیے جانے والوں میں نوفر مولوی بھی شامل ہیں، جنہیں استغاثہ نے حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے والا شخص قرار دیا تھا۔
2019 میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور تین لگژری ہوٹلوں کو نشانہ بنا کر مربوط بم دھماکے کیے گئے تھے۔ حملوں میں 270 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں 45 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔
یہ حملے 2009 میں سری لنکا کی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد ملک میں ہونے والے سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقعات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ تمام خودکش بمبار دھماکوں کے دوران مارے گئے تھے۔
تفتیش کے دوران ان حملوں کا الزام اسلام پسند شدت پسندوں پر عائد کیا گیا۔ مقدمے میں نامزد 25 افراد میں سے ایک ملزم دوران حراست ہلاک ہوگیا تھا، جبکہ باقی ملزمان کو قتل، دہشت گردی کی سازش، اسلحہ رکھنے سمیت 23 ہزار سے زائد الزامات کا سامنا تھا۔
استغاثہ کے مطابق مقدمے کی کارروائی کے دوران 2,300 سے زائد افراد نے گواہی دی، جبکہ 2,076 شواہد عدالت میں پیش کیے گئے۔ ان شواہد میں دھماکا خیز مواد، تلواریں اور آتشیں اسلحہ بھی شامل تھا۔
ایسٹر حملوں کے بعد سری لنکن حکام نے اسے انٹیلی جنس نظام کی سنگین ناکامی قرار دیا تھا۔ پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے حملوں سے متعلق فراہم کی گئی پیشگی معلومات متعلقہ حکام تک مؤثر انداز میں منتقل نہیں ہوسکی تھیں۔
2023 میں سری لنکا کی سپریم کورٹ نے سابق صدر میتھری پالا سری سینا سمیت بعض سابق حکام کو متاثرین کو مالی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ دو سابق اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کو بھی مجرمانہ غفلت کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم سری لنکا میں کئی دہائیوں سے سزائے موت پر عمل درآمد معطل ہے۔