کوہاٹ حملہ ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستان سے تعاون کیا جائے،سلامتی کونسل
دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور ناقابل جواز قرار
سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےکوہاٹ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافون نےبیان میں کہا کہ مسجد میں خودکش حملہ ’گھناؤنا اور بزدلانہ‘ فعل تھا۔سلامتی کونسل ارکان نے متاثرین کے اہل خانہ، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس حملے میں ملوث افراد، منصوبہ سازوں اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
سلامتی کونسل نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، اس کے محرکات، مقام، وقت یا اس کے مرتکب افراد سے قطع نظر، مجرمانہ اور ناقابل جواز ہے۔
کونسل کے ارکان نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام ممالک اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں، بشمول انسانی حقوق، پناہ گزینوں اور بین الاقوامی انسانی قانون، کے مطابق دہشت گردی سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کریں۔