اقوام متحدہ میں زیلنسکی کا خطاب، پیوٹن کو روکنے اور روس پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ
اہم خطاب، یوکرین جنگ کا پھیلاؤ، ایران سے کشیدگی میں کمی پر اتفاق۔
نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، ورنہ اس جنگ کا دائرہ کار یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں تک پھیل جائے گا۔
جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا کہ رواں سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران تقریباً 2 لاکھ 49 ہزار روسی فوجی ہلاک یا شدید زخمی ہوئے ہیں تاہم روسی جارحیت بدستور جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس کے ساتھ شمالی کوریا کی افواج کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ تنازع اب اپنی سرحدوں سے باہر نکل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس مالدووا، پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے اور عالمی برادری کو اس صورت حال کا سنجدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ صدر زیلنسکی نے روسی تیل کی صنعت کو براہِ راست ہدف بنانے کے بجائے ماسکو کی جنگی مالی معاونت اور تجارتی روابط کو محدود کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک روس کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ دراصل اس جنگ کے دورانیے میں طوالت کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین ان حملوں کا دفاع کرنے کے لیے انٹرسیپٹر ڈرونز کی پیداوار بڑھا رہا ہے اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نئی فضائی دفاعی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔
دریں اثنا، نیویارک ہی میں ایران اور یوکرین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اہم ملاقات بھی منعقد ہوئی جس میں باہمی کشیدگی میں کمی لانے اور رابطے کے ذرائع کھلے رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور یوکرینی ہم منصب آندری سیبیہا کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی بدلتی ہوئی صورت حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یوکرینی وزیر خارجہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ Following up on our July telephone call, I met with @araghchi on the sidelines of the 81st session of the UN General Assembly. Diplomacy is about direct conversation, even in challenging circumstances. Our conversation focused on mutual steps to prevent further aggravation of… یوکرین نے دونوں خطوں میں پائیدار امن اور استحکام کی بحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی بحری جہاز کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جسے اب سفارتی سطح پر کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔