تعلیمی ریکارڈ بحالی کیس، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ آگیا

جسٹس مزمل اختر شبیر نے لاہور تعلیمی بورڈ کی اپیل پر پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔

September 25, 2026 · قومی
تعلیمی ریکارڈ بحالی کیس، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ آگیا

تعلیمی ریکارڈ بحالی کیس، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ آگیا

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے تعلیمی ریکارڈ کی بحالی سے متعلق کیس میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کورٹ کا سابقہ حکم کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے لاہور تعلیمی بورڈ کی اپیل پر پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔

عدالت عالیہ نے بورڈ کی اپیل کو سول نظرثانی کی درخواست میں تبدیل کرکے منظور کرلیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ بحالی کی درخواست دائر کرنے کے لیے قانون میں تین سال کی مدت مقرر ہے اور ایسی درخواست پر آرٹیکل 168 کے بجائے آرٹیکل 181 کا اطلاق ہوتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے قانون کی درست تشریح نہیں کی۔ فیصلے کے مطابق 122 دن کی تاخیر کو بنیاد بنا کر درخواست خارج کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا، جبکہ دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت دائر کی جانے والی ایسی درخواستوں کے لیے تین سال کی مدت مقرر ہے۔

کیس کے مطابق روزینہ مشتاق نے اپنی تعلیمی اسناد میں تاریخ پیدائش 1985 کے بجائے 1991 درج کروانے سے متعلق دعویٰ دائر کر رکھا تھا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے عدم پیروی اور مقررہ فیس جمع نہ کروانے کی بنیاد پر تعلیمی بورڈ کی اپیل خارج کردی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کو ہدایت کی کہ تمام فریقین کو سننے کے بعد معاملے کا میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو کیس کا قانونی تصفیہ جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کردی۔