ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزمان کو بھی ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں

خواتین ملزمان کے مطابق انہیں اڈیالہ جیل سے کچہری لانے اور واپس لے جانے کے دوران تقریباً 6 سے 7 گھنٹے تک ہتھکڑیوں میں رکھا گیا۔

September 25, 2026 · قومی
ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزمان کو بھی ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں

ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزمان کو بھی ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں

راولپنڈی: راولپنڈی میں خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر اہل خانہ اور وکلا کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل سے راولپنڈی کچہری لائی جانے والی خواتین ملزمان کے دونوں ہاتھوں میں کئی گھنٹوں تک ہتھکڑیاں لگی رہیں۔ خواتین ملزمان کے مطابق انہیں اڈیالہ جیل سے کچہری لانے اور واپس لے جانے کے دوران تقریباً 6 سے 7 گھنٹے تک ہتھکڑیوں میں رکھا گیا۔

خواتین ملزمان کا کہنا ہے کہ دونوں ہاتھ بندھے ہونے کے باعث پولیس وین میں سوار ہونے اور اترنے سمیت واش روم جانے اور دوپٹہ درست کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار وین میں سوار اور اترنے کے دوران مدد کے نام پر انہیں پیچھے سے پکڑتے تھے، جس پر خواتین کے اہل خانہ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

واقعے کے خلاف ڈسٹرکٹ بار کے ارکان اور خواتین ملزمان کے رشتہ داروں نے احتجاج کیا۔ وکلا کا مؤقف تھا کہ خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانے کا اقدام قانون اور انسانی وقار کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

سینیئر وکیل شان زیب خان کے مطابق خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانے سے متعلق ہدایات سی پی او راولپنڈی کی جانب سے جاری کی گئی تھیں، تاہم ان کے بقول یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔

واقعے کے بعد وکلا اور اہل خانہ نے مطالبہ کیا کہ خواتین ملزمان کے ساتھ قانونی اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق سلوک یقینی بنایا جائے اور اس معاملے کی مکمل وضاحت سامنے لائی جائے۔