وفاقی ٹیکس محتسب کی ایف بی آر کو تجارتی مقامات سیل کرنے پر سخت ہدایات

اہم پیش رفت، ٹیکس قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، عدالت نے کارروائی روک دی، نئی ہدایات جاری۔

September 25, 2026 · قومی
وفاقی ٹیکس محتسب کی ایف بی آر کو تجارتی مقامات سیل کرنے پر سخت ہدایات

وفاقی ٹیکس محتسب کی ایف بی آر کو تجارتی مقامات سیل کرنے پر سخت ہدایات

وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس کیسز میں کاروباری مقامات سیل کرنے کے اختیارات انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ کراچی میں ایک ٹیکس دہندہ کے خلاف سیلنگ آرڈر غلطی سے دوسرے رجسٹرڈ ٹیکس دہندہ کے دفتر پر نافذ ہونے کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔

دستاویز کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب نے اس غلط کارروائی کو قانونی اختیار کے بغیر اقدام اور سنگین بدانتظامی قرار دیتے ہوئے متعلقہ کاروباری جگہ کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کی ہدایت کی۔ محتسب نے واضح کیا کہ کسی بھی مقام کو سیل کرنے سے پہلے ٹیکس دہندہ کی شناخت، رجسٹریشن، کاروباری جگہ اور متعلقہ اجازت ناموں کی مکمل تصدیق کی جانی چاہیے، اور اس حوالے سے فیلڈ دفاتر کے لیے فوری طور پر واضح ہدایات جاری کی جائیں۔ جگہ کی بحالی کے بعد شکایت کنندہ نے اپنا معاوضے کا مطالبہ واپس لے لیا ہے۔

دوسری جانب، ایف بی آر نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کا ایک خصوصی طریقہ کار متعارف کراتے ہوئے انکم ٹیکس رولز میں نیا باب شامل کر دیا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق سوشل میڈیا آمدن سے اخراجات کی زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کٹوتی کی اجازت ہوگی، جبکہ کم از کم قابل ٹیکس آمدن کا حساب مجموعی آمدن میں سے قابل قبول اخراجات نکال کر لگایا جائے گا۔ یہ قواعد پاکستان میں سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے تمام رہائشی افراد پر لاگو ہوں گے جنہیں ہر سہ ماہی میں ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور اپنی سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن میں اس آمدن کو ایک الگ حصے میں ظاہر کرنا ہوگا۔ اصل آمدن مقررہ حد سے کم ہونے کی صورت میں اس کا ثبوت متعلقہ کمشنر کو دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ادھر، لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے میپکو کے ٹیکس تنازع پر سماعت کرتے ہوئے ایف بی آر کو کسی بھی قسم کی جبری کارروائی سے روک دیا ہے۔ عدالت میں پیش کی گئی درخواست کے مطابق میپکو کو 4 ارب 53 کروڑ 59 لاکھ 73 ہزار 266 روپے کے ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے تھے جنہیں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس میں مخصوص قانونی طریقہ کار اور اپیل کا فورم موجود ہے، اور عدالت نے اس معاملے پر وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔