سیف سٹی کیمروں کو نقصان پر 20 لاکھ جرمانہ

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سیف سٹی کیمروں اور دیگر نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے

September 26, 2026 · قومی
سیف سٹی کیمروں کو نقصان پر 20 لاکھ جرمانہ(فائل فوٹو)

سیف سٹی کیمروں کو نقصان پر 20 لاکھ جرمانہ(فائل فوٹو)

اسلام آباد میں سیف سٹی کیمروں اور نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے نیا قانونی اقدام سامنے آگیا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سیف سٹی کیمروں اور دیگر نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔

ایوانِ صدر کے مطابق آرڈیننس کی منظوری وزیراعظم کی سفارش پر دی گئی۔ نئے قانون کے تحت سیف سٹی کیمرے یا نگرانی کے دیگر آلات کو نقصان پہنچانے، کسی کو نقصان پہنچانے پر اکسانے یا اس کی ترغیب دینے پر مالی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

قانون کے مطابق کسی ایک کیمرے یا نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

جلسے، جلوس، دھرنے، احتجاج، ہڑتال یا کسی دوسرے اجتماع کے دوران اگر سیف سٹی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو حالات کے مطابق اجتماع کے منتظمین کو بھی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جا سکے گا۔

آرڈیننس میں جرمانے یا نقصان کی تلافی کی رقم مقرر کرنے کا اختیار متعلقہ مجاز افسر کو دیا گیا ہے، تاہم فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا ضروری ہوگا۔

فیصلے سے متاثرہ شخص کو 30 دن کے اندر اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ مقررہ جرمانہ یا نقصان کی رقم ادا نہ ہونے کی صورت میں اسے اراضی کے محصول کے بقایا جات کی طرز پر وصول کیا جا سکے گا۔

حکومت کے مطابق جرمانوں اور نقصان کی تلافی سے حاصل ہونے والی رقم سیف سٹی کیمروں اور نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت یا تبدیلی پر خرچ کی جائے گی۔

قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کا سیف سٹی منصوبہ شہری نگرانی اور سکیورٹی کے لیے استعمال ہونے والے کیمروں کے نظام پر مشتمل ہے، جبکہ ستمبر 2026 میں پارلیمانی کمیٹی نے بھی سیف سٹی منصوبے اور کیمروں کی فعالیت سے متعلق امور کا جائزہ لیا تھا۔

یہ قانونی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمیوں اور ممکنہ اجتماعات کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ حکومت اور متعلقہ سیاسی جماعت کے درمیان احتجاج کے طریقہ کار اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔