خیبر پختونخوا حکومت گورنر راج کی شرائط پر پورا اترتی ہے،رانا ثناء اللہ
مستقبل میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت آئین اور قانون کے مطابق امور نہیں چلا رہی۔
خیبر پختونخوا حکومت گورنر راج کی شرائط پر پورا اترتی ہے،رانا ثناء اللہ
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا آئینی اور قانونی راستہ موجود ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس آئین کے تحت کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار موجود ہے اور ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس اقدام سے متعلق تمام شرائط پوری ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج کا آپشن موجود ہے اور مستقبل میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت آئین اور قانون کے مطابق امور نہیں چلا رہی۔
رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج کے معاملے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پالیسی فیصلہ کیا ہے اور کسی کو احتجاج کی غرض سے وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر وفاقی حکومت کے مختلف رہنماؤں کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ 23 ستمبر کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ حکومت کا صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ 25 ستمبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ اس حوالے سے مشاورت ہوئی ہے اور آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ([Dawn][2])