سندھ میں 9 ماہ کے دوران ریبیز سے 35 افراد جاں بحق، کتوں کے کاٹنے کے 2 لاکھ سے زائد کیسز

خوفناک اعداد و شمار، اسپتالوں میں رش بڑھ گیا، فوری طبی امداد کی اپیل

September 28, 2026 · ہیلتھ
سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریبیز سے اموات پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریبیز سے اموات پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

کراچی کے چار بڑے سرکاری اور فلاحی اسپتالوں میں رواں سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران کتوں کے کاٹنے کے 40 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ پورے صوبے سندھ میں اس مدت کے دوران ڈاگ بائٹ کے واقعات کی کل تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق انڈس اسپتال کراچی میں جنوری سے ستمبر تک کتوں کے کاٹنے کے 14 ہزار کیسز سامنے آئے، جبکہ جناح اسپتال اور سول اسپتال کراچی میں اس دوران تقریباً 10،10 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ کراچی کے دیگر طبی مراکز میں بھی 7 ہزار سے زائد ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

طبی اعداد و شمار کے مطابق انڈس اسپتال کراچی میں 9 ماہ کے دوران ریبیز کے باعث 26 افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ انڈس اسپتال بدین میں 1 اور جناح اسپتال کراچی میں ریبیز سے 8 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسانوں میں ریبیز پھیلنے کے تقریباً 99 فیصد واقعات آوارہ کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے سامنے آتے ہیں، جبکہ گیدڑ، بندر اور دیگر گھریلو جانوروں سے بھی یہ جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ آوارہ کتوں کی افزائش نسل پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر نس بندی اور موثر ویکسینیشن پروگرام چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ صرف اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی کافی نہیں ہے بلکہ عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی۔ ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھویا جائے اور کسی بھی قسم کے گھریلو ٹوٹکوں سے گریز کرتے ہوئے بلا تاخیر قریبی طبی مرکز سے رجوع کیا جائے۔ بروقت اینٹی ریبیز ویکسین اور ضرورت کے مطابق ریبیز امیونوگلوبیولین کا استعمال قیمتی انسانی جانیں بچا سکتا ہے۔