سول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ

کسی معاملے سے متعلق سول مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کی صورت میں فوجداری کارروائی خود بخود نہیں رکتی۔

September 29, 2026 · قومی
سول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ

سول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے اراضی سے متعلق مبینہ جعلسازی اور فراڈ کے مقدمے میں اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی معاملے سے متعلق سول مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کی صورت میں فوجداری کارروائی خود بخود نہیں رکتی۔

جسٹس محمد امجد پرویز نے اللہ وسایا کی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ کسی معاملے پر سول مقدمہ چل رہا ہے، فوجداری مقدمہ ختم یا معطل نہیں کیا جاسکتا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق سول اور فوجداری کارروائیاں قانون کے تحت بیک وقت جاری رہ سکتی ہیں، جبکہ سول مقدمے کا زیرِ التوا ہونا فوجداری کارروائی روکنے کے لیے کافی قانونی جواز نہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر جعلسازی کا مبینہ جرم سول مقدمہ دائر کیے جانے سے پہلے ہوچکا ہو تو تعزیراتی قانون کی دفعہ 195(1)(c) کا اطلاق نہیں ہوگا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسے فوجداری مقدمات قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تفتیش کے مرحلے پر فوجداری مقدمے میں ہائیکورٹ کی مداخلت کے لیے مناسب قانونی بنیاد موجود ہونا ضروری ہے۔