کراچی کا ایک تاریخی اسکول جو کبھی بارود خانہ تھا

پناہ گزین بچوں کی تعلیم کے لیے عمارت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیاگیا

September 29, 2026 · امت خاص

 

کراچی کی تاریخی عمارتوں میں کچھ عمارتیں ایسی بھی ہیں، جن کا ذکر تاریخی کتابوں میں بھی کم ہے آج ایسی ہی ایک عمارت جو انگریز دور میں بارودخانہ اور آج اسکول کی صورت موجود ہے۔

اسکول کی یہ عمارت آزادی سے پہلے انگریز دور میں یہ جگہ بارودخانے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ یہاں بارود کی جگہ کتابوں نے لے لی، اور یہ تاریخی مقام بچوں کے لیے اسکول بن گیا۔یہ ہے بارودخانہ اسکول، جہاںتعلیم کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 1950 میں نوابزادہ لیاقت علی خان کے بڑے صاحبزادے ولایت علی خان کی کوششوں سے یہاں آبادی کا سلسلہ شروع ہوا۔

آبادی بڑھی تو چند ہی برسوں میں بچوں کے لیے اسکول کی ضرورت بھی محسوس ہونے لگی۔

ایک روایت کے مطابق ولایت علی خان اسکول کیلئے جگہ دیکھ رہے تھے ایک ٹیلہ موزوں لگا۔ اس کی گراؤنڈ بریکنگ ہوئی تو نیچے بارود خانہ نکل آیا۔ 1966 میں ایجوکیشن آفیسر عابدہ سلطانہ نے پناہ گزین بچوں کی تعلیم کے لیے اس تاریخی عمارت کو اسکول کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس عمارت کو اسکول میں تبدیل کرنے کے دوران جب یہاں کھدائی کی گئی تو زمین کے اندر بارودخانے سے متعلق مزید آثار سامنے آئے۔عمارت کے تہہ خانے کو بعد ازاں مٹی اور کنکریٹ سے بند کر دیا گیا، انگریز دور کی مضبوط تعمیر کو اسکول کے طور پر استعمال میں لایا گیا۔

یوں جہاں کبھی بارود محفوظ کیا جاتا تھا، وہاں نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تزئین و آرائش کے بعد اسکول کی خوبصورتی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اس تاریخی عمارت کا اسٹرکچر تو مضبوط ہے مگر کے ایم سی انتظامیہ نے ہمیشہ اس اسکول کو نظر انداز کیا ہے، دوران کلاس بجلی کی بندش معمول ہے۔ ڈیسک ٹوٹ چکے ہیں۔ مگر تعلیمی سفر جاری ہے۔