کوٹ لکھپت جیل میں علیمہ خان سمیت تینوں بہنوں نے بھوک ہڑتال کردی
لاہور ہائیکورٹ کے حکم باوجود ضروری اشیاء فراہم نہیں کی گئیں، اہلخانہ، حکومت نے عدالت کو رپورٹ جمع کرا دی
کوٹ لکھپت جیل میں علیمہ خان سمیت تینوں بہنوں نے بھوک ہڑتال کردی
لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی نے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے کزن قاسم زمان کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود تاحال ضروری اشیاء فراہم نہیں کی گئیں، جس کے بعد جیل عملے کے مبینہ رویے پر انہوں نے احتجاجاً کھانے کی اشیاء واپس کر دی ہیں۔ قاسم زمان نے بتایا کہ تینوں بہنیں گزشتہ 48 گھنٹے سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور خاندان کو ان کی سلامتی سے متعلق شدید خدشات لاحق ہیں۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل نے علیمہ خان کو جیل میں میڈیکل سہولیات کی فراہمی اور ملاقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ اس دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فرخ خان لودھی نے ہوم سیکرٹری پنجاب کی جانب سے رپورٹ پیش کی، جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ علیمہ خان کو جیل میں بیڈشیٹ، کمبل، جوتے، 6 سوٹ، کالے رنگ کا بیگ، تولیہ، فیس واش، برش اور شال فراہم کر دی گئی ہے۔ عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو جیل میں ملاقات اور میڈیکل سہولیات کی فراہمی کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو 30 روز کے لیے نظر بند کر کے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد کی خبر کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے پیغام دیا ہے کہ اسلام آباد مارچ شاید سہیل آفریدی کی صلاحیت سے زیادہ ہے، اس لیے انہیں وزارتِ اعلیٰ سے اسٹیپ ڈاؤن کرنا چاہیے۔ تاہم دوسری جانب بیرسٹر گوہر اور عمران خان کے اہلخانہ نے سہیل آفریدی کو ہٹانے سے متعلق دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔