لانگ مارچ کے خط پر تنقید، شوکت یوسفزئی آبدیدہ ہوگئے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ان کے خط سے متعلق میڈیا پر دیے گئے بیان سے انہیں دکھ ہوا، کیونکہ انہیں ایسے رویے کی توقع نہیں تھی
لانگ مارچ کے خط پر تنقید، شوکت یوسفزئی آبدیدہ ہوگئے
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز سے متعلق اپنے خط پر پارٹی کے اندر ہونے والی تنقید اور سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا ذکر کرتے ہوئے ٹی وی پروگرام میں آبدیدہ ہوگئے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران شوکت یوسفزئی نے کہا کہ انہوں نے پارٹی کے ایک سینئر اور دیرینہ رکن کی حیثیت سے ملک اور جماعت کو درپیش آئینی و سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی رائے قیادت تک پہنچائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ان کے خط سے متعلق میڈیا پر دیے گئے بیان سے انہیں دکھ ہوا، کیونکہ انہیں ایسے رویے کی توقع نہیں تھی۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ان پر بلاوجہ یہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ شاید وہ کسی کے دباؤ میں آکر یا کسی مفاد کے تحت یہ بات کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے ہمیشہ پارٹی کے مفاد اور اپنے اصولی مؤقف کے مطابق بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب چار اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تو وہ اس میں سب سے آگے رہنے کی بات کرچکے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے مختلف مواقع پر سہیل آفریدی کا دفاع بھی کیا، اس کے باوجود پارٹی سے وابستہ بعض سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ نو مئی کے بعد تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہنے والے رہنماؤں اور کارکنوں نے مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھبیس نومبر کے احتجاج کے موقع پر بھی انہوں نے ممکنہ خطرات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر پارٹی کارکنوں کی جانب سے ہونے والی تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ ٹرولنگ سے جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ تحریک انصاف چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ وفادار ہیں۔