پانی کو ہتھیار نہیں بننے دیں گے،عطا تارڑ

سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کے معاملات اور امن و استحکام کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔

September 30, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم پانی کو دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کے معاملات اور امن و استحکام کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے تحت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی اور تذویراتی پہلوؤں پر رپورٹ کی تقریب رونمائی ہوئی، جس سے عطا تارڑ نے خطاب کیا۔

وفاقی وزیر نے رپورٹ کی تیاری اور اجراء کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سندھ طاس تہذیب سے تاریخی تعلق ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر فریقین کی جانب سے طے شدہ اصولوں کے مطابق عمل درآمد ضروری ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر اپنا مؤقف عالمی سطح پر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا التوا میں نہیں رکھا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے کو سفارتی سطح پر بھی اٹھایا ہے اور عالمی برادری کو معاہدے سے متعلق اپنے قانونی مؤقف سے آگاہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پانی پاکستان کے عوام، زراعت اور معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی حالیہ رپورٹ میں بھی سندھ طاس معاہدے کو درپیش قانونی اور تذویراتی مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کے مؤقف میں معاہدے کے تحت قانونی اور سفارتی طریقہ کار پر زور دیا گیا ہے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرچکا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کو اہم سمجھتا ہے۔

تقریب میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان سمیت آبی امور کے ماہرین اور دیگر متعلقہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔