سندھ کے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں کراچی کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا،منعم ظفر خان

کراچی کے طلبہ کو مختلف تعلیمی امتحانات میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے اور موجودہ صورتحال ان کے تعلیمی مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

September 30, 2026 · قومی
سندھ کے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں کراچی کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا،منعم ظفر خان(فائل فوٹو)

سندھ کے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں کراچی کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا،منعم ظفر خان(فائل فوٹو)

کراچی میں جماعت اسلامی کے رہنما منعم ظفر خان نے سندھ کے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے نتائج اور انتظامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے پورے داخلہ نظام کی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادارہ نورِ حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں کراچی کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے طلبہ کو مختلف تعلیمی امتحانات میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے اور موجودہ صورتحال ان کے تعلیمی مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

منعم ظفر خان نے امتحانی مراکز کی تعداد پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاہور میں تقریباً 11 ہزار 480 طلبہ کے لیے 6 مراکز جبکہ پشاور میں 16 ہزار طلبہ کے لیے 19 مراکز قائم کیے گئے، اس کے مقابلے میں کراچی کے تقریباً 11 ہزار طلبہ کے لیے صرف 2 امتحانی مراکز بنائے گئے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کراچی میں ضلعی سطح پر مزید امتحانی مراکز کیوں قائم نہیں کیے گئے اور طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔

جماعت اسلامی کراچی کے رہنما نے سندھ کے تعلیمی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ بورڈز کے نظام کے بعد مختلف ٹیسٹنگ ادارے قائم کیے گئے، جس سے طلبہ کے لیے داخلوں کا عمل مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں تھرپارکر سمیت اندرونِ سندھ کے بعض اضلاع کے طلبہ نے نمایاں کارکردگی دکھائی، جبکہ کراچی کے طلبہ کے مقابلے میں ان علاقوں سے کامیابی کا تناسب زیادہ رہا۔

منعم ظفر خان نے این ای ڈی یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اندرونِ سندھ کے طلبہ میں کامیابی کا تناسب تقریباً 24 سے 26 فیصد جبکہ کراچی بورڈ کے طلبہ میں یہ شرح تقریباً 66 فیصد رہی۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے پورے نظام کی شفاف نگرانی کی جائے۔

واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار اور امتیازی سلوک کے الزامات منعم ظفر خان کی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے ہیں۔