کراچی کے علاقے نیول کالونی میں ماں اور 2 بیٹوں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ اسلام آباد سے گرفتار
اہم پیش رفت، پولیس نے تکنیکی کارروائی کی، ملزم کو کراچی منتقل کردیا گیا
سعید آباد کراچی میں پیش آنے والے تہرے قتل کے معاملے میں پولیس کی کارروائی کا منظر
کراچی کے علاقے سعید آباد میں نیول کالونی کے مقام پر پیش آنے والے ایک لرزہ خیز تہرے قتل کے واقعے میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد مرکزی ماسٹر مائنڈ کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ سعید آباد انویسٹی گیشن پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے دیور کو گرفتار کیا ہے جسے راہدری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزم کی شناخت عنایت محمد چشتی کے نام سے ہوئی ہے جو کہ نیول کالونی میں پیش آنے والے اس تہرے قتل کا اصل ماسٹر مائنڈ ہے۔ یاد رہے کہ یہ لرزہ خیز واردات 18 اپریل کو سعید آباد تھانے کی حدود میں واقع نیول کالونی میں پیش آئی تھی جہاں گھر میں گھس کر فائرنگ کی گئی تھی۔
پولیس دستاویز اور ایف آئی آر کے متن کے مطابق اس دلخراش واقعے میں مقتولہ ماں اور اس کے 2 کمسن بیٹوں کو سروں پر گولیاں مار کر بیددردی سے قتل کیا گیا تھا۔ مقتولہ کی شناخت سمعیہ کے نام سے ہوئی جبکہ جاں بحق ہونے والے بیٹوں میں 14 سالہ شہروز اور 12 سالہ عبداللہ شامل تھے۔ واقعہ کا مقدمہ نمبر 126/26 جرم 302/109 کے تحت سعید آباد تھانے میں مقتولہ کے سابقہ شوہر ولایت شوکت چشتی اور دیور عنایت محمد چشتی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈسٹرکٹ کیماڑی شاہ جہان خان کے مطابق مقتولہ خاتون سمعیہ نے ملزم ولایت سے طلاق کے بعد دوسری شادی کر لی تھی، جس پر دونوں ملزمان بھائی شدید رنجیدہ اور غصے میں تھے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرکزی ملزم ولایت نے اپنے سگے بھائی اور اب گرفتار ہونے والے ملزم عنایت کے اکسانے پر ہی اس تہرے قتل کی گھناؤنی واردات کو انجام دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے بعد اب اس معاملے کے مرکزی ملزم ولایت کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔