ایف بی آر کا 9 ارب 41 کروڑ روپے کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ فراڈ کا سراغ

ڈیٹا کے تجزیے کے دوران 85 ٹیکس دہندگان کے 2014 سے 2019 کے ٹیکس سالوں سے متعلق ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں مقررہ مدت گزرنے کے بعد تبدیلیاں سامنے آئیں۔

October 1, 2026 · قومی
ایف بی آر کا 9 ارب 41 کروڑ روپے کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ فراڈ کا سراغ

ایف بی آر کا 9 ارب 41 کروڑ روپے کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ فراڈ کا سراغ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مختلف ٹیکس دہندگان کی جانب سے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں مبینہ غیر قانونی تبدیلیوں کے ذریعے 9 ارب 41 کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کیے جانے کا سراغ لگا لیا۔

ایف بی آر کے مطابق ڈیٹا کے تجزیے کے دوران 85 ٹیکس دہندگان کے 2014 سے 2019 کے ٹیکس سالوں سے متعلق ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں مقررہ مدت گزرنے کے بعد تبدیلیاں سامنے آئیں۔

حکام کے مطابق مارچ 2025 سے جون 2026 کے دوران ان افراد نے اپنے پرانے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیداد اور کاروباری سرمایہ ظاہر کیا۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت اصل ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ تاریخ گزرنے کے 5 سال بعد ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ترمیم نہیں کی جاسکتی، تاہم تحقیقات میں ایسے کیسز سامنے آئے جن میں مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد پرانے گوشواروں میں تبدیلیاں کی گئیں۔

ایف بی آر کے مطابق لاہور سے سامنے آنے والے ایک کیس میں ایک ٹیکس دہندہ نے مئی 2026 میں ٹیکس سال 2015 کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے مبینہ فرضی فنڈز ظاہر کیے۔ بعد ازاں یہ رقم 2025 تک مختلف ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں منتقل کی جاتی رہی۔

حکام کے مطابق اسی رقم کو استعمال کرتے ہوئے مئی اور جون 2026 میں 7 جائیدادیں خریدی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ٹیکس دہندہ ان مبینہ فنڈز کے ذرائع کی تسلی بخش وضاحت نہیں کرسکا، جبکہ اس کیس میں 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس چوری کی مبینہ کوشش کا بھی انکشاف ہوا۔

ایف بی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں اس معاملے سے متعلق 48 فوجداری تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، جبکہ دیگر کیسز میں بھی کارروائی جاری ہے۔

لاہور کے کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ مبینہ فراڈ میں معاونت کرنے والے دیگر افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔