وفاقی آئینی عدالت کے 106 صفحات پر مشتمل رولز پبلک کردیئے گئے

توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں اور سزائے موت سے متعلق مختلف قواعد شامل ہیں۔

October 1, 2026 · قومی
وفاقی آئینی عدالت کے 106 صفحات پر مشتمل رولز پبلک کردیئے گئے

وفاقی آئینی عدالت کے 106 صفحات پر مشتمل رولز پبلک کردیئے گئے

وفاقی آئینی عدالت کے 106 صفحات پر مشتمل رولز پبلک کردیئے گئے ہیں، جن میں توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں اور سزائے موت سے متعلق مختلف قواعد شامل ہیں۔

رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار رکھتی ہے، جبکہ کسی بھی شخص کی درخواست پر بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔

قواعد میں کہا گیا ہے کہ بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر متعلقہ وکیل کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے اور کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زر ضمانت جمع کرانا ہوگا۔ اگر درخواست خارج کردی جائے یا اسے بے بنیاد قرار دیا جائے تو یہ رقم ضبط کی جاسکتی ہے۔

رولز کے تحت نظرثانی درخواست عموماً اسی بنچ کے سامنے مقرر ہوگی جس نے اصل فیصلہ یا حکم جاری کیا تھا۔ اگر اصل بنچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہو تو ممکنہ صورت میں اسی بنچ کے ایک یا زائد ججز پر مشتمل بنچ نظرثانی درخواست کی سماعت کرے گا۔

قواعد کے مطابق نظرثانی کے فیصلے کے خلاف مزید نظرثانی درخواست دائر نہیں کی جاسکے گی اور ایسی درخواست رجسٹری میں بھی وصول نہیں کی جائے گی۔

سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونے کی صورت میں رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری طور پر آگاہ کرے گا۔ سزائے موت پر عملدرآمد نظرثانی درخواست کے فیصلے تک خودکار طور پر معطل رہے گا اور اس مقصد کے لیے عدالت کے الگ حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تاہم اگر اپیل، نظرثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہوچکی ہو تو سزائے موت کی خودکار معطلی کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔