وکلاء کے تعاون سے 50 سال پرانے مقدمات کے فیصلے کر رہے ہیں،جسٹس شاہد وحید

تقریب میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس شاہد بلال، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شریک ہوئے۔

October 1, 2026 · قومی
وکلاء کے تعاون سے 50 سال پرانے مقدمات کے فیصلے کر رہے ہیں،جسٹس شاہد وحید

وکلاء کے تعاون سے 50 سال پرانے مقدمات کے فیصلے کر رہے ہیں،جسٹس شاہد وحید

لاہور: سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے کہا ہے کہ لاہور رجسٹری میں زیر سماعت سول نوعیت کے مقدمات میں کئی کیسز کئی دہائیوں پرانے ہیں اور عدالت 50 سال تک پرانے مقدمات کے فیصلے بھی کر رہی ہے۔

پاکستان بار کونسل کی دعوت پر سپریم کورٹ کے ججز نے لاہور رجسٹری بار روم میں منعقدہ چائے کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس شاہد بلال، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شریک ہوئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ لاہور رجسٹری میں اس وقت سول نوعیت کے 1976 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان کے مطابق پرانے مقدمات کے فیصلوں میں وکلاء نے عدالت کے ساتھ تعاون کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔

انہوں نے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ کا تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر طویل گفتگو کے بجائے وہ صرف دعوت اور تعاون پر وکلاء کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی توجہ کے باعث لاہور رجسٹری میں سول اور فوجداری مقدمات کے فیصلوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات بھی نمٹائے جا رہے ہیں۔

پیر مسعود چشتی کے مطابق 1999ء سے زیر التوا ایک مقدمے کا فیصلہ بھی 2026ء میں ہوا، جسے انہوں نے چیف جسٹس کی توجہ کا نتیجہ قرار دیا۔