برطانیہ کے قومی عجائب گھروں میں غیر ملکیوں کا مفت داخلہ

یہ عجائب گھر برطانوی معیشت میں سالانہ ایک ارب پاؤنڈ سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں

October 1, 2026 · قومی
برطانیہ کے قومی عجائب گھروں میں غیر ملکیوں کا مفت داخلہ

برطانیہ کے قومی عجائب گھروں میں غیر ملکیوں کا مفت داخلہ

لندن: برطانوی حکومت نے ملک کے قومی عجائب گھروں میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے مفت داخلے کی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اس دوران حکومت، عجائب گھروں کی انتظامیہ اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے غیر ملکی سیاحوں سے داخلہ فیس وصول کرنے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔

اس سے قبل مارچ میں برطانوی وزرا کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ بین الاقوامی سیاحوں سے ٹکٹ فیس وصول کرکے سرکاری معاونت سے چلنے والے عجائب گھروں کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ تجویز سابق لیبر وزیر لیڈی مارگریٹ ہوج کی ایک رپورٹ کے بعد زیر غور آئی تھی، جس میں نیوزی لینڈ اور سنگاپور کی مثالیں دیتے ہوئے مقامی شہریوں کے لیے مفت داخلہ برقرار رکھنے اور غیر ملکی سیاحوں سے فیس لینے کی تجویز دی گئی تھی۔

برطانوی شعبہ برائے ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ اسپورٹس نے منگل کو تصدیق کی کہ مفت داخلے کی سہولت تمام سیاحوں کے لیے برقرار رہے گی۔

وزارتِ ثقافت کے مطابق غیر ملکی سیاحوں پر داخلہ فیس عائد کرنے سے مقامی سیاحوں کی آمد متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ اس اقدام کے مالی فوائد اور اثرات تمام عجائب گھروں کے لیے یکساں نہیں ہوں گے۔

انگلینڈ کے 15 قومی عجائب گھروں کی مستقل نمائشوں میں 2001 سے دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو مفت داخلے کی سہولت حاصل ہے۔

حکام کے مطابق یہ عجائب گھر برطانوی معیشت میں سالانہ ایک ارب پاؤنڈ سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں۔ 2025 میں نیچرل ہسٹری میوزیم نے تقریباً 71 لاکھ جبکہ برٹش میوزیم نے 64 لاکھ سے زائد زائرین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

مستقل نمائشوں کے لیے ٹکٹ فیس نہ ہونے کے باوجود عجائب گھر خصوصی نمائشوں، مختلف تقریبات، رکنیت اور یادگاری اشیا کی دکانوں کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

لندن کے میئر صادق خان نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لندن کے عجائب گھر دنیا بھر میں اہم ثقافتی مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں اور ثقافت تک رسائی کو وسیع رکھنا ضروری ہے۔

ثقافت کی وزیرِ مملکت لیزا نینڈی اور برٹش میوزیم کے ڈائریکٹر نیکولس کلینن نے بھی مفت داخلے کی پالیسی برقرار رکھنے کے فیصلے کو سراہا۔ ان کے مطابق برٹش میوزیم کی بنیاد 1753 میں تمام افراد کے لیے مفت داخلے کے تصور کے ساتھ رکھی گئی تھی اور یہ روایت جاری رہے گی۔