دہشت گردوں کے لیے عدالتیں کھلی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگتے،انتظار پنجوتھہ
پنجوتھہ کاکہنا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں سمیت غیرسیاسی افراد پربھی مقدمات ہیں
انصاف لائرز فورم کے چیف آرگنائزر انتظار حسین پنجوتھہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں
چیف آرگنائزر انصاف لائرز فورم انتظار حسین پنجوتھہ نے کہا ہے کہ عام دہشت گردوں کے لیے عدالتیں کھلی ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کیسز ہی سماعت کے لیے مقرر نہیں کیے جاتے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتظار حسین پنجوتھہ نے کہا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم بھی خاتون ہیں، ان کے دور میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ قابلِ مذمت ہے۔ بہت سے دور آئے اور بہت سے مارشل لا لگے، لیکن ایسا دور کبھی نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ آصف زرداری اور شہباز شریف کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پوری فیملی پر کیسز ہیں، ان کی تینوں بہنوں کو جیلوں میں بند کر رکھا ہے، جبکہ جو لوگ سیاست نہیں کرتے ان پر بھی کیسز ہیں۔
انتظار پنجوتھہ نے ایک وکیل کی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے التماس ہے کہ 30 دن کا ڈیٹینشن آرڈر تھا، ہم یہ ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ انصاف ہوتا ہوا دکھائیں تو سہی۔
انہوں نے کہا کہ ایک آرڈر کیا گیا جیسے بہت ریلیف دیا گیا ہو، ایف آئی آر کا فونٹ بڑا کرنے سے انصاف نہیں ہوگا۔ ہائیکورٹ میں عمارتیں بنائی گئی ہیں، لیکن اگر انصاف نہیں دیا گیا تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالیہ حمزہ کا کیس پرسوں سماعت کے لیے مقرر تھا، سزائیں فوری طور پر ختم ہو جاتی ہیں لیکن کیس لگایا ہی نہیں جا رہا۔
انتظار حسین پنجوتھہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بہت سے لوگ فوت بھی ہو چکے ہیں، جب ان کے کیسز لگتے ہیں تو ڈویژن بینچ چھٹی پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مقصد صرف یہ ہے کہ انصاف نہیں ہونے دینا۔ شاہ محمود قریشی اور اعجاز چودھری کے کیسز بھی اسی طرح کے ہیں۔