حکومت اور اپوزیشن مذاکرات، پہلے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

اجلاس کے دوران بعض معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔

October 2, 2026 · قومی
حکومت اور اپوزیشن مذاکرات، پہلے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات، پہلے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں مختلف سیاسی اور سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ اجلاس کے دوران بعض معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آغاز پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات کا معاملہ اٹھایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اپنے تحفظات مذاکراتی ٹیم کے سامنے رکھے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے علامہ ناصر عباس نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اپوزیشن حکومت سے سیاسی معاملات پر بات چیت کے لیے بیٹھی ہے، اس لیے مذاکرات کو دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کے معاملے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران علامہ ناصر عباس نے ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں اور سیاسی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے بانی عمران خان سے مشاورت کے بغیر اہم فیصلے نہیں کرنا چاہتی، اس لیے ان سے ملاقات ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اگر محمود خان اچکزئی اور دیگر متعلقہ رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات ہوجائے تو سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے سوال کیا کہ ملاقات کے بعد معاملات حل ہونے کی کیا ضمانت ہے۔

ذرائع کے مطابق علامہ ناصر عباس نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی قیادت اس بات کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے اور عمران خان سے ملاقات کے بعد صورتحال میں بہتری کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے بغیر مذاکرات سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا مشکل ہوگا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں محسن نقوی، علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو میں حصہ لیا، جبکہ بیرسٹر گوہر نے محمود خان اچکزئی کی جانب سے پیش کیے گئے نکات بھی حکومتی وفد کے سامنے رکھے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہوئے، جہاں دونوں جانب سے مذاکراتی وفود نے شرکت کی۔ مذاکرات کا مقصد موجودہ سیاسی صورتحال، پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے احتجاج اور دیگر سیاسی معاملات پر بات چیت کرنا ہے۔