مذاکرات کی اندرونی باتیں باہر لانے پر تحریک تحفظ آئین اور پیپلز پارٹی میں لفظی جنگ
معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اخونزادہ حسین، لانگ مارچ غیر مشروط ختم ہو، شیری رحمان
مذاکرات کی اندرونی باتیں باہر لانے پر تحریک تحفظ آئین اور پیپلز پارٹی میں لفظی جنگ
تحریک تحفظ آئین پاکستان اور حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران معاملات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب دونوں جانب سے بیانات کا تبادلہ ہوا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ مذاکرات کی اندرونی تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور باہر نہیں بتایا جائے گا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور ایک سینئر پارلیمنٹیرین کی جانب سے اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی توقع نہیں کی جاتی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے مطالبات حکومتی وفد کے سامنے رکھ دیے ہیں جبکہ انہوں نے بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے، جس پر ہم نے مشاورت کے لیے مہلت طلب کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے غیر مشروط لانگ مارچ ملتوی کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی اور ہم اس نوعیت کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ طویل مذاکرات نہیں ہیں اور تحریک انصاف کو غیر مشروط طور پر اپنا لانگ مارچ ختم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں جو بھی حتمی فیصلے ہوں گے، انہیں میڈیا کے سامنے لایا جائے گا اور ہماری پوری کوشش ہوگی کہ مذاکرات جلد اپنے انجام کو پہنچیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا معاملہ ہماری ریڈ لائن ہے کیونکہ اس دوران سکیورٹی فورسز کے جوان اور عوام اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ فریقین نے ایک دوسرے کو مشاورت کے لیے وقت دینے پر اتفاق کیا ہے اور باہمی اعتماد کی فضا کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔