دوہری شہریت چھپانے والے افسران کو ایک ہفتے کی مہلت

مقررہ مدت میں ڈیکلریشن جمع نہ کرانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

October 3, 2026 · قومی
دوہری شہریت چھپانے والے افسران کو ایک ہفتے کی مہلت

دوہری شہریت چھپانے والے افسران کو ایک ہفتے کی مہلت

اسلام آباد: حکومت نے اپنی یا زیرِکفالت افراد کی غیر ملکی یا دوہری شہریت سے متعلق معلومات جمع نہ کرانے والے سول سرونٹس کو مزید ایک ہفتے کی مہلت دے دی ہے۔ مقررہ مدت میں ڈیکلریشن جمع نہ کرانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے تمام وزارتوں، ڈویژنز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور پولیس سربراہان کو جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سول سرونٹس سے متعلق 2026 کے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنی اور زیرِکفالت افراد کی غیر ملکی یا دوہری شہریت کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی ہے۔

قواعد کے مطابق سول سرونٹس کو یکم جون 2026 کو قواعد کی سرکاری گزٹ میں اشاعت کے 90 دن کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم کرنا تھیں، جس کی آخری تاریخ یکم ستمبر مقرر تھی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس حوالے سے 17 جولائی کو بھی متعلقہ اداروں کو یاد دہانی کرائی تھی۔

تازہ مراسلے کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، سیکرٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ سے وابستہ متعدد افسران نے تاحال اپنی غیر ملکی شہریت سے متعلق ڈیکلریشن جمع نہیں کرائی۔

مجاز اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہ کرانے والے افسران کے خلاف سول سرونٹس کے کارکردگی اور نظم و ضبط سے متعلق 2020 کے قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈیکلریشن جمع نہ کرانا یا غلط معلومات فراہم کرنا بدعنوانی یا خلافِ ضابطہ طرزِ عمل تصور ہوگا۔ تقرری کے وقت بھی ہر سول سرونٹ کو اپنے کیڈر منتظم کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ یا اس کا کوئی زیرِکفالت فرد غیر ملکی شہری ہے یا کسی دوسرے ملک کا سفری دستاویز رکھتا ہے۔

غلط یا نامکمل معلومات فراہم کرنے کی صورت میں تقرری ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیے جانے اور ملازمت ختم کیے جانے کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ سول سرونٹس کو سالانہ بنیادوں پر بھی اپنی اور زیرِکفالت افراد کی غیر ملکی شہریت سے متعلق حیثیت ظاہر کرنا ہوگی۔

قواعد کے تحت غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز حاصل کرنے، یا اس کے حصول کی کوشش کرنے کی صورت میں بھی متعلقہ حکام کو اطلاع دینا ضروری ہوگا، جبکہ پیشگی اجازت کے بغیر غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز کے لیے درخواست دینا عمومی طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

غیر ملکی شہری سے شادی کی صورت میں سول سرونٹس پر 1962 کے متعلقہ قواعد بدستور لاگو رہیں گے۔