مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، صدر آزاد کشمیر
اہم ملاقات، پیکیج کا اعلان، تنازع کا پُرامن حل ناگزیر ہے
مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، صدر آزاد کشمیر
صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی نے کہا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور اس کا حتمی حل کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حق خودارادیت دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں اور حریت رہنماؤں کی گرفتاریوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد کی قیادت کنوینر غلام محمد صفی نے کی، جبکہ اس موقع پر اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق بھی موجود تھے۔
اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات مسئلہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی تنازع کے منصفانہ حل سے وابستہ ہے۔
دریں اثنا، اسلام آباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر نجیب نقی نے اعلان کیا کہ آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کے لیے 28 ارب روپے کا پیکیج لایا جا رہا ہے جس میں وفاقی حکومت نے کافی حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی کے لیے 100 دن کا پلان بنایا گیا ہے اور احتجاج کرنے والی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بیشتر معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ دریں اثنا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں پاکستان نے بھارت کو دوٹوک جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ پاکستانی وفد کا کہنا تھا کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکار کر رہا ہے۔