بھارت میں متنازع ووٹر فہرستوں کے خلاف جین زی اور کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج
انتخابی فہرستوں میں ردوبدل، پولیس کا طاقت کا استعمال، جیل بھرو تحریک کا اعلان
بھارت میں متنازع ووٹر فہرستوں کے خلاف جین زی اور کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج
بھارت میں متنازع ووٹر فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں اور لاکھوں ناموں کے اخراج کے خلاف جین زی (Gen Z) اور کاکروچ جنتا پارٹی کے زیراہتمام احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی اور ممبئی سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ جنتر منتر اور اہم مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی اور دیگر اپوزیشن گروپس اس احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں معروف شخصیات سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں میں متنازع تبدیلیوں سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے جن پر مبینہ طور پر انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ ووٹرز کے نام حذف کرنے کا الزام ہے۔
دستاویزات اور خبر رساں رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں تقریباً 100 مظاہرین نے سکیورٹی بیریکیڈز ہٹائے اور شدید نعرے بازی کی۔ ناقدین اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال شروع کی گئی ملک گیر ووٹر تصدیقی مہم کے نتیجے میں لاکھوں اہل ووٹرز کو انتخابی فہرستوں سے نکال دیا گیا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ادھر کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک بھر میں جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔