امریکی تجاویز کا جواب دے دیا، پابندیاں ختم کرنا ہوں گی: ایران
سفارتی پیش رفت، قطر کے ذریعے نئی تجاویز موصول، تہران کا مؤقف سخت رہے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی تہران میں پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے ہیں۔
تہران (نیوز ڈیسک) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے قطر کے ذریعے نئی تجاویز موصول ہو چکی ہیں، جن کا جواب تہران کی طرف سے دیا جا چکا ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کی نئی تجویز سابقہ تجاویز سے ملتی جلتی ہے اور اس میں بنیادی توجہ جوہری معاملے پر مرکوز ہے، جبکہ تہران چاہتا ہے کہ بات چیت میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کو ترجیح دی جائے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق امریکا کی اس نئی تجویز میں آئندہ مذاکرات کے لیے ایک روڈ میپ اور ٹائم فریم بھی شامل ہے، جو اسلام آباد میں طے پانے والے سابقہ فریم ورک کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کو سب سے پہلے اپنی عائد کردہ نئی پابندیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور سابقہ یقین دہانیوں بالخصوص بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر تمام شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت ضائع کرنے اور یک طرفہ مطالبات مسلط کرنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے، اور ایران اپنے اقدامات کا فیصلہ دشمن کے حقیقی رویے اور عملی اقدامات کو دیکھ کر کرتا ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مؤقف ظاہر کیا ہے کہ تہران کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ قبول کیے جانے کی صورت میں صرف 7 دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ سمیت 6 رکنی کمیٹی مذاکرات کے اس تمام معاملے کی کڑی نگرانی کر رہی ہے، اور آئندہ ایران کے خلاف جہاں سے بھی جارحیت ہوئی تو اس کا جواب پہلے سے بالکل مختلف ہوگا۔