پاک افغان کشیدہ تعلقات اور دہشت گردی کے تدارک پر ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس کل روس میں ہوگا

اہم سفارتی پیش رفت، روس میں مشاورتی اجلاس، خطے کے دیگر ممالک بھی شریک ہوں گے۔

October 4, 2026 · اہم خبریں
ماسکو فارمیٹ کے اجلاس کی تیاریوں اور سفارتی وفود کی آمد کے حوالے سے ایک منظر

ماسکو فارمیٹ کے اجلاس کی تیاریوں اور سفارتی وفود کی آمد کے حوالے سے ایک منظر

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحدی سلامتی کے تناظر میں ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس 5 اکتوبر کو روس میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور باہمی اختلافات پر علاقائی سطح پر بات چیت کا ایک اور اہم موقع فراہم ہوگا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق وفد کی قیادت کریں گے۔

دستاویزات اور ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اور ڈی جی افغانستان، ایران و ترکیہ نعیم اقبال چیمہ، افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی اور روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی شامل ہوں گے۔ دوسری جانب افغان طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی وفد کی قیادت کریں گے۔ افغان طالبان کے ایک عہدے دار کے مطابق محمد صادق اور امیر خان متقی کے درمیان دوطرفہ ملاقات تاحال طے نہیں ہوئی اور طالبان کی جانب سے ایسی کسی ملاقات کی درخواست بھی نہیں کی گئی۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد پر افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر خطے کے دیگر ممالک بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی رابطوں پر زور دیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں افغانستان اور علاقائی ممالک کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعاون، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے سمیت دیگر امور پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں پاکستان، افغانستان، روس، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندوں اور اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے جبکہ بیلاروس اور مصر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا ہے۔