فلائی دبئی طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش پرشریک پائلٹ کوسزائے موت دینے کافیصلہ

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ، معاون پائلٹ کے پاس القاعدہ کا مواد تھا، تحقیقات جاری ہیں۔

October 5, 2026 · اہم خبریں
فلائی دبئی طیارہ واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں۔

فلائی دبئی طیارہ واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں۔

 

متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں اسرائیل جانے والی پرواز کے دوران طیارہ گرانے اور اس کا کنٹرول چھیننے کی کوشش کرنے والے فلائی دبئی کے شریک پائلٹ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابو ظبی کی جانب سے یہ سخت فیصلہ طیارے میں سوار تمام افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کے الزام میں کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ 30 ستمبر کو پیش آیا جب دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں عمانی نژاد شریک پائلٹ حمام الحَمّامی نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی یا چاقو سے کپتان پر حملہ کرکے اسے زخمی کر دیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس دوران طیارہ خطرناک حد تک تیزی سے نیچے آنے لگا۔ طیارے میں 169 اسرائیلیوں سمیت 174 سے 182 افراد سوار تھے۔

حکام کے مطابق صورتحال اس وقت کنٹرول میں آئی جب مسافروں، عملے اور طیارے میں موجود دیگر آف ڈیوٹی پائلٹس نے بروقت مداخلت کرکے حملہ آور کو قابو کر لیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا گیا۔ حملہ آور پائلٹ اس وقت سعودی حکام کی حراست میں ہے۔

تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم کے پاس مبینہ طور پر القاعدہ کا پراپیگنڈا مواد بھی موجود تھا، اور اسے اس سے قبل اپنے ملک میں پرواز کرنے سے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس کے انتہا پسندانہ خیالات سے متعلق خدشات موجود تھے۔ اس کے باوجود وہ فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے اور حساس پرواز کے عملے کا حصہ بننے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ دریں اثنا، اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے امارات پہنچ چکے ہیں جبکہ آسٹریلوی انسدادِ دہشت گردی حکام بھی پائلٹ کے آسٹریلیا سے ممکنہ پرانے روابط کی جانچ کر رہے ہیں۔