پی ٹی آئی لانگ مارچ میں ممکنہ رکاوٹوں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر
قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ، اراکین اسمبلی عدالت میں پیش، سماعت جلد متوقع ہوگی
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست سے وابستہ ایک منظر۔
پشاور ہائی کورٹ میں خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران حائل ہونے والی ممکنہ رکاوٹوں کے خلاف ایک آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی شاندانہ گلزار، شہریار آفریدی اور آصف خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران تینوں اراکین اسمبلی اپنے وکیل معظم بٹ کے ہمراہ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت میں کارروائی کے دوران وکیل معظم بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس نے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا ہے، اور مارچ کے شرکا کو ان کے متعلقہ انتخابی حلقوں میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم سے متاثر ہیں؟ جس پر وکیل نے وضاحت کی کہ وہ کسی حکم سے متاثر نہیں ہیں بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ متعلقہ اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ مارچ کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کریں۔ عدالت نے کیس کو فوری طور پر آج ہی لگانے کی استفسار پر ریمارکس دیے کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے شرکا نے رات کو ضلع کرک میں پڑاؤ ڈالا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی آج لانگ مارچ کے شرکا کے ہمراہ کرک سے کوہاٹ کے لیے روانہ ہوں گے۔ کوہاٹ آمد پر وہ کارکنان سے خطاب کریں گے جبکہ رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی ان کا استقبال کریں گے۔ کوہاٹ میں مختصر قیام کے بعد یہ مارچ پشاور کی جانب گامزن ہوگا۔ پارٹی قیادت کے مطابق لانگ مارچ جب چارسدہ اور صوابی پہنچے گا تو اس موقع پر آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ دریں اثنا، لانگ مارچ کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور پالیسی پر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کا پرزور مطالبہ بھی کیا ہے۔