کچی سڑک کا سی پیک سے مقابلہ؟افغانستان کاواخان کوریڈور روڈکیا ہے

تعمیر پر 36کروڑ50 لاکھ افغانی لاگت آئی ہے

October 5, 2026 · امت خاص

واخان راہداری کا افتتاح

 

افغانستان نے باضابطہ طور پر ایک سڑک کا افتتاح کر دیا ہے جو شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں واقع واخان راہداری کے ذریعے اسےچین سے جوڑتی ہے۔، اس 121 کلومیٹر (75 میل) لمبی کچی سڑک کی تعمیر کا آغاز دو سال قبل ہوا تھا۔ یہ سڑک افغانستان کو چین کے علاقے سنکیانگ سے ملاتی ہے۔

واخان راہداری صوبہ بدخشاں میں افغان سرزمین کی ایک تنگ پٹی ہے، جو تاجکستان کو پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے الگ کرتی ہے۔اس سڑک کی تعمیر پر 36کروڑ50 لاکھ افغانی (5.5 ملین ڈالر) لاگت آئی ہے۔

طالبان حکومت کی وزارت دیہی بحالی و ترقی کے مطابق بدخشان کے بروغل علاقے سے چین کی سرحد تک اس کچی (بجری والی) سڑک کے ساتھ چار بڑے ، 66 چھوٹے پل اور تقریباً3ہزار ایک سو میٹر حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، دیہی بحالی اور ترقی کے وزیر عبداللطیف منصور نے کہا کہ یہ سڑک افغانستان کے لیے تزویراتی (اسٹریٹجک)، سیاسی اور اقتصادی اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کابل نے ایسے عوامی منصوبوں کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر ان صوبوں میں جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس منصوبے میں کوئی غیر ملکی انجینئر یا مشیر شامل نہیں؛ تمام انجینئرز افغان ہیں۔

عبداللطیف منصور نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف واخان ضلع کے رہائشیوں، خصوصاً پامیر کے لوگوں، کے لیے آمد و رفت میں بڑی سہولت پیدا ہوئی ہے بلکہ مستقبل میں یہ افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم اور بڑی تجارتی و ٹرانزٹ راہداری بھی بن سکتی ہے۔

منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے ذمہ دار محمد اسماعیل نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’اب ہم براہِ راست چین سے منسلک ہو گئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی گاڑی، چاہے بڑی ہو یا چھوٹی، اب وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ’خاص تاریخی، تزویراتی اور اقتصادی‘ اہمیت کا حامل ہے۔

طالبان حکومت زمینی راستے کے ذریعے چین سے رابطے کو اپنی اہم ترجیحات میں شمار کرتی ہے اور اس حوالے سے متعدد مواقع پر چینی حکام کے ساتھ بات چیت بھی کر چکی ہے۔تاہم چین کے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اسی سال جنوری کے آخر میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بیجنگ اب بھی سکیورٹی خدشات کے باعث افغانستان کے ساتھ براہِ راست زمینی راستہ کھولنے کے معاملے میں محتاط ہے۔

پورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ اس وقت چین کے سنکیانگ صوبے کے سرحدی علاقے میں افغانستان کے ساتھ آمد و رفت اور تجارت کے لیے کوئی کسٹم سہولت موجود نہیں، اور چین کا اس راستے پر آمد و رفت کے انتظام کے لیے کوئی سرحدی مرکز قائم کرنے کا بھی منصوبہ نہیں ۔منصوبے کی افتتاحی تقریب میں کسی چینی عہدیدار کی عدم شرکت کو بھی اس حوالے سے اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔