غیرقانونی سفر کے روایتی راستے تبدیل،ڈنکی مافیااب فضائی ذرائع استعمال کرنے لگا

ڈی جی ایف آئی اے کا انکشاف، غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری، وسائل میں کمی کا سامنا۔

October 5, 2026 · امت خاص
ڈی جی ایف آئی اے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور سکیورٹی فورسز کی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور سکیورٹی فورسز کی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

 

 ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) ڈاکٹر عثمان انور نے انکشاف کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں یعنی ‘ڈنکی’ لگانے والوں نے اپنے سفر کے روایتی راستے تبدیل کر لیے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں، لیکن اب یورپ میں بھی حالات پہلے جیسے سازگار نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر اور ڈنکی لگانے والے زمینی راستوں کے بجائے فضائی راستوں کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک اور پیش رفت کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ستمبر 2026 کے دوران جنوبی بلوچستان میں کیے گئے 15 کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں 435 غیر قانونی افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔ یہ کارروائیاں تربت، دشت، پنجگور، دالبدین اور ماشکیل کے علاقوں میں عمل میں لائی گئیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کیے جانے والے تمام 435 غیر قانونی افغان باشندوں کو ضروری قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھجوا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود عبوری حکومتی پالیسیوں کی ناکامی اور شدید معاشی بحران کے باعث افغان شہری غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں، جنہیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مؤثر حکمت عملی کے تحت روکا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، ڈی جی ایف آئی اے نے اعتراف کیا کہ ادارے کو فی الوقت وسائل اور افرادی قوت کی کمی کا چیلنج درپیش ہے، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ محکمے میں نئی بھرتیوں کا عمل مکمل ہوتے ہی استعداد کار میں اضافہ ہوگا اور بیشتر انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کا تیسرا مرحلہ اس وقت پورے ملک میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔