سندھ ہائیکورٹ کی میر رضا کے بینک اکاؤنٹ تک تفتیشی ٹیم کو رسائی کی منظوری
اہم پیش رفت، جوڈیشل کمیشن کا جائے وقوعہ کا دورہ، حتمی چالان کیلئے مزید 14 دن کی مہلت۔
سندھ ہائیکورٹ کی میر رضا کے بینک اکاؤنٹ تک تفتیشی ٹیم کو رسائی کی منظوری
کراچی میں میر رضا کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سندھ ہائیکورٹ نے تفتیشی حکام کو میر رضا کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ تفتیش کے سلسلے میں بینک اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشنز کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس بن چکا ہے اور جوڈیشل کمیشن بھی اس سلسلے میں گزشتہ ایک ماہ سے تحقیقات کر رہا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے ضابطوں کے مطابق عدالتی حکم کے بغیر بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل نہیں کی جا سکتی تھیں، اس لیے عدالت سے استدعا کی گئی کہ تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے بینک ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تفتیشی حکام کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا۔
دوسری جانب، جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے میر رضا کیس کا حتمی چالان جمع کروانے کے لیے مزید 14 دن کی مہلت دے دی ہے۔ تفتیشی افسر کی جانب سے اس سے قبل جو عبوری چالان جمع کروایا گیا تھا، اس میں کسی کو بھی ملزم نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ میر رضا کی لاش جولائی کے آخر میں گلستان جوہر سے ملی تھی، جس کا مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج کیا گیا تھا۔
دریں اثنا، میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے جائے وقوعہ اور متعلقہ گیسٹ ہاؤس کا خود معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ خود معائنہ کرنے سے حکومت سندھ کو دی جانے والی سفارشات کو مزید وزن ملے گا۔ اس سلسلے میں کمیشن نے سندھ حکومت کے فوکل پرسن کو تمام ضروری انتظامات کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ علاوہ ازیں، کمیشن نے کیس میں مشکوک گاڑیوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے تحقیقاتی صحافیوں بابر سلیم اور صولت جعفری کے کام کی تعریف کرتے ہوئے انہیں بریفنگ کے لیے طلب کر لیا ہے، جبکہ ڈی ایس پی سراج لاشاری اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات بھی مقررہ تاریخوں پر ریکارڈ کیے جائیں گے۔