وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرتے ہوئے ایس او ایز کی ششماہی رپورٹ جاری کردی
مالی نظم و نسق بہتر بنانے کا فیصلہ، ریاستی اداروں کی پالیسی میں اہم ترامیم کی گئیں، سرکاری قرضوں میں 10 سال کے دوران 340 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا۔
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرتے ہوئے ایس او ایز کی ششماہی رپورٹ جاری کردی
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزارت خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی ششماہی رپورٹ جاری کر دی ہے اور ایس او ایز پالیسی 2023 میں اہم ترامیم کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ 10 سال کے دوران 340 فیصد کے تاریخی اضافے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ششماہی رپورٹ کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ایس او ایز کا مجموعی منافع 7 فیصد کم رہا۔ رپورٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی سے دسمبر 2025 تک ایس او ایز کا منافع 457.20 ارب روپے سے کم ہو کر 423.3 ارب روپے رہا۔ اسی طرح مخصوص تجارتی اداروں کے منافع میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو 114.3 ارب روپے سے کم ہو کر 80.5 ارب روپے پر آ گیا۔
دستاویز کے مطابق، زیر جائزہ مدت کے دوران ایس او ایز کے نقصانات 342.9 ارب روپے سے معمولی کم ہو کر 342.8 ارب روپے رہے۔ ریاستی ملکیتی اداروں کی ایکویٹی میں جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران 3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 6628.7 ارب روپے سے کم ہو کر 6407.2 ارب روپے پر آ گئی۔ ششماہی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس دوران ایس او ایز کی ذمہ داریاں 1 فیصد کم ہوئیں جبکہ اثاثوں میں 2 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کے بعد ایس او ایز کے اثاثے 37729.7 ارب روپے سے کم ہو کر 37107 ارب روپے رہ گئے۔
ایک اور اہم پیش رفت کے تحت وفاقی حکومت نے ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق 2023 کی پالیسی میں اہم ترامیم کا فیصلہ کیا ہے جس کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق، ترمیم شدہ پالیسی کے تحت تمام سرکاری اداروں کو انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز کے مطابق حساب کتاب رکھنے اور اندرونی آڈٹ کے طریقہ کار اختیار کرنے کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ فنانس ڈویژن آڈیٹر جنرل کی مشاورت سے مالی انتظام کا فریم ورک تیار کرے گا جبکہ عام کمپنیوں کے لیے تجویز کردہ رعایتیں ایس او ایز پر بھی لاگو ہوں گی۔ بینکنگ سے متعلق سرکاری اداروں پر اسٹیٹ بینک کے متعلقہ قواعد لاگو ہوں گے۔ ان ترامیم کا مقصد سرکاری اداروں میں مالی نظم و نسق، شفافیت اور احتساب کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
دریں اثنا، وفاقی وزارت خزانہ کی ایک اور رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ 10 سال کے دوران 340 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جون 2016 تک سرکاری قرضے 19700 ارب روپے تھے جو بڑھ کر 86700 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ اس مجموعی حجم میں مقامی قرضے 59400 ارب اور غیر ملکی سرکاری قرضے 27300 ارب روپے ہیں۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جون 2017 تک مجموعی سرکاری قرضہ 21400 ارب، جون 2018 تک 24900 ارب، جون 2019 تک 32700 ارب، جون 2020 تک 36400 ارب اور جون 2021 تک بڑھ کر 39900 ارب روپے ہو گیا تھا۔