امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فرانسیسی طلبا احتجاج کا ذمہ دار اسلام اور نقل مکانی کو قرار دینے پر ردعمل

فرانس میں تعلیمی بحران سنگین، لاکھوں افراد سراپا احتجاج، جھڑپوں میں سینکڑوں گرفتار۔

October 7, 2026 · اہم خبریں
فرانس میں طلبا احتجاج اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا ایک منظر

فرانس میں طلبا احتجاج اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا ایک منظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری طلبا کے احتجاج کا ذمہ دار اسلام اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کو قرار دے دیا ہے۔ فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ فرانس میں پیش آنے والے واقعات بے قابو نقل مکانی کا نتیجہ ہیں اور یہ احتجاج تعلیمی اداروں کے بارے میں نہیں بلکہ اس امر کے بارے میں ہے کہ اسلام ایک عظیم ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کے عالمی دائیں بازو کے بیانیے کو مزید آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔

فرانس میں یہ احتجاج سرکاری ہائی اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، سہولیات کی کمی، داخلہ پالیسی اور اساتذہ کی قلت کے خلاف شروع ہوا تھا جو بعد ازاں پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 2 لاکھ 56 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی جبکہ یونینوں کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار تک تھی۔ صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں اسکول ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ 2 ہفتوں سے جاری ان مظاہروں کے دوران اب تک 5 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ منگل کے روز ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 488 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 43 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

دوسری جانب طلبا، یونینوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس کی جانب سے طاقت کے غیر متناسب استعمال پر شدید تنقید کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ایک نوجوان پولیس کے اسٹن گرینیڈ کے استعمال سے اپنا ہاتھ کھو بیٹھا جبکہ ایک اور واقعے میں 14 سالہ طالب علم کے چہرے پر قریب سے آنسو گیس کا گرینیڈ لگنے سے اس کے کئی دانت ٹوٹ گئے۔ اس واقعے پر متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے فردِ جرم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دریں اثنا فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں ہونے والی بدامنی کی تشریح دوسرے ممالک کو اپنے انداز میں نہیں کرنے دینی چاہیے اور ہمیں اپنی کہانی خود لکھنا ہوگی۔