پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل

اہم پیش رفت، اسٹاف لیول معاہدے کا امکان، ایف بی آر کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار۔

October 7, 2026 · اہم خبریں
اسلام آباد میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے حکام کے درمیان اقتصادی مذاکرات کا جائزہ اجلاس جاری ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے حکام کے درمیان اقتصادی مذاکرات کا جائزہ اجلاس جاری ہے۔

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں، جن کے نتیجے میں تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے لیے جلد اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان معاشی صورتحال اور اہم اہداف پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ وفد کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز یعنی ایم ای ایف پی (MEFP) کے مسودے کی تیاری پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔

دستاویزات اور ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم قرار دیتے ہوئے گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.4 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔ علاوہ ازیں، جولائی سے ستمبر کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس اہداف کا حصول خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور ایف بی آر نے رواں سال کا مقررہ ٹیکس ہدف مکمل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لیے اہم مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے صوبوں کی باضابطہ رضامندی کے ساتھ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم سندھ حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دیے جانے کے باعث شوگر پالیسی تاحال حتمی شکل نہیں اختیار کر سکی۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

پیٹرولیم اور توانائی کے شعبوں کے حوالے سے مذاکرات میں طے پایا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ وزیراعظم فیول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند ہو گیا ہے، البتہ یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ اس سبسڈی اسکیم میں مزید صارفین کا اضافہ نہ کیا جائے اور اسے موٹرسائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں تک ہی محدود رکھا جائے۔ وزارت پٹرولیم اور پاور ڈویژن کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں گیس کے ٹیرف اسٹرکچر، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے میں کمی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات پر قابو پانے اور ان کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔