وفاق پر حملے کی صورت میں کے پی حکومت آئینی جواز کھو بیٹھے گی، رانا ثناء اللہ
مذاکرات کی پیشکش موجود ہے، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرے، "آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ"
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنا آئینی جواز کھو بیٹھے گی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کے فیصلوں کے ساتھ تمام اداروں اور صوبائی حکومتوں کو غیر مشروط طور پر کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران 5 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق ہو چکا تھا اور معاہدے کے مسودے پر دستخط ہوتے ہی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہونا تھا، مگر تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی کی مخالفت کی جس سے معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش تاحال موجود ہے اور پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اپنا لانگ مارچ ختم کر کے بات چیت کی میز پر آئے، کیونکہ لانگ مارچ جاری رکھنے سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور ان کے علاج کے لیے برطانیہ سے ماہر ڈاکٹر کو اڈیالہ جیل بلایا گیا تھا جن کی کارکردگی اور طبی معائنے سے ان کی فیملی بھی مطمئن تھی۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر کے علاج کے لیے لندن سے ماہر ترین ڈاکٹر فرقاد عالمگیر کو بلایا گیا تھا جن کی زیر نگرانی ادویات تبدیل کی گئیں اور اب ان کی صحت مکمل طور پر کنٹرول اور نارمل ہے۔
ادھر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی گئی ہے، لیکن بات چیت ہمیشہ بغیر کسی شرط کے ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک موجودہ غیر آئینی اور غیر قانونی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کو احسن طریقے سے حل کیا جائے۔ بیرسٹر گوہر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق لانگ مارچ ہر صورت اسلام آباد پہنچے گا اور مذاکرات کے بغیر لانگ مارچ کو کمزوری سمجھنا بڑی نامناسب بات ہوگی۔