مولانا فضل الرحمان سیاسی ڈیڈلاک ختم کرانے اور ثالثی کیلئے تیار، وزیراعظم کو رپورٹ پیش
سیاسی کشیدگی میں کمی، حکومت سے مشاورت کا عمل تیز، وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطے کا امکان۔
مولانا فضل الرحمان اور حکومتی وفد کی ملاقات اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی اور مذاکراتی ڈیڈلاک کو ختم کرانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد اپنی تفصیلی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی ہے، جس میں مولانا کی جانب سے مصالحانہ کردار کے لیے پیش کی گئی شرائط سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان تنازعات کو طے کرانے اور ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے مکمل تیار ہیں جبکہ وزیراعظم کو ان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا گیا ہے، اور دونوں رہنماؤں کے درمیان جلد ٹیلی فونک رابطہ متوقع ہے۔
اس سے قبل اپوزیشن کے ایک وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی جس میں علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر اور اخونزادہ حسین یوسف زئی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پی ٹی آئی اگر اسلام آباد آ کر پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے کیونکہ یہ ایک جمہوری حق ہے جسے ماضی میں ہم نے بھی استعمال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو سیاسی میانہ روی کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح کی مشاورت ہونی چاہیے تاکہ ہم اپنی علاقائی صورتحال کے مطابق درست فیصلے کر سکیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی حکومتی وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ سیاسی راستے نکالے جا رہے ہیں اور امید پر دنیا قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے دیرینہ خاندانی اور سیاسی تعلقات ہیں اور موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں ملک کے لیے جو بھی بہتر ہوگا، وہی مثبت راستہ اختیار کیا جائے گا۔