سعودی عرب کا حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ
سعودی دفاعی نظام متحرک، فضائی حملے ناکام، پاکستانی دستوں کی موجودگی کی تصدیق۔
سعودی عرب میں میزائل حملے ناکام بنانے اور دفاعی صورتحال سے متعلق نمائندہ تصویر۔
ریاض اور خمیس مشیط میں حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو سعودی دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔ سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بیان میں کہا ہے کہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے دارالحکومت ریاض اور خمیس مشیط کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا۔
میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں کی بروقت شناخت کرکے انہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس کارروائی سے کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اتحادی افواج کے ترجمان نے مزید بتایا کہ بحری افواج نے الحدیدہ گورنریٹ میں کارروائی کرتے ہوئے آبی گزرگاہوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنا دیا ہے جبکہ یمنی فوج کی جانب سے بھی پیش قدمی جاری ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے مختلف امور اور ڈومینز سے تعلق رکھتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملی پیش رفت کا فیصلہ کرتے ہوئے ضروری فوجی قوت اور صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعیناتی کے لیے فراہم کرنے کا اتفاق کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔