شوہر کو ای میل کے ذریعے مذاق میں بیوی کو طلاق دینا مہنگا پڑ گیا

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، ای میل اور مذاق میں دی گئی طلاق مؤثر قرار

October 8, 2026 · اہم خبریں
والد کی پنشن سے نابالغ بچوں کا نان نفقہ ادا کیا جاسکتا ہے، لاہور ہائیکورٹ(فائل فوٹو)

والد کی پنشن سے نابالغ بچوں کا نان نفقہ ادا کیا جاسکتا ہے، لاہور ہائیکورٹ(فائل فوٹو)

لاہور ہائیکورٹ نے ای میل کے ذریعے بیوی کو طلاق دینے والے شوہر کا مذاق میں طلاق دینے کا مؤقف سختی سے مسترد کرتے ہوئے طلاق کو مؤثر قرار دے دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے اس حوالے سے دائر کی جانے والی درخواست خارج کرتے ہوئے یونین کونسل کی جانب سے جاری کردہ طلاق کا سرٹیفکیٹ برقرار رکھا ہے۔

عدالتی دستاویزات اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق، راحیل احمد نامی شہری نے اپنی زوجہ کو ای میل پر طلاق بھیجی تھی، لیکن بعد میں اس معاملے کو محض مذاق قرار دے کر یو سی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے اس کیس کا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی خاتون کو اس کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں طویل غیر یقینی میں نہیں رکھا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر شوہر خود طلاق کی باضابطہ اطلاع یونین کونسل کو نہ دے، تو ایسی صورت میں بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خود یونین کونسل کو اس امر سے آگاہ کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کوئی بھی شوہر اپنی ہی قانونی غلطی یا غفلت کا فائدہ اٹھا کر طلاق کے عمل کو نہیں روک سکتا، اور فیملی کورٹس کے لیے بھی طلاق کے مؤثر ہونے کا تعین کرنے سے انکار کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون نے اپنے جہیز کا سامان اور دیگر قانونی مطالبات حاصل کرنے کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں عدالت نے دیگر امور پر فیصلہ سناتے ہوئے فریقین کو طلاق کے مؤثر ہونے کی تصدیق کے لیے یونین کونسل سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یونین کونسل نے خاوند کے مسلسل غیر حاضر رہنے اور پیش نہ ہونے پر قانون کے مطابق طلاق کو مؤثر قرار دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ ’یونین کونسل نے خاوند راحیل احمد کے پیش نہ ہونے پر طلاق مؤثر قرار دے دی۔ خاوند کے تاخیری حربوں کے سبب خاتون کو غیر یقینی صورتحال میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘ علاوہ ازیں، عدالت نے حکومت کو طلاق سے متعلق قوانین میں ضروری ترمیم کرنے کی سفارش بھی کی ہے اور فیصلے کی نقل احاطہ عدالت میں بہتری اور رہنمائی کے لیے پنجاب کی تمام فیملی کورٹس کو ارسال کر دی ہے۔