امریکا کا بھارت کو بڑا جھٹکا، بڑی آئی ٹی کمپنیوں کی گرین کارڈ اسپانسرشپ معطل
اہم کارروائی، مائیکروسافٹ اور ایڈوب شامل، تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا
امریکی انتظامیہ کی جانب سے بڑی آئی ٹی کمپنیوں کی گرین کارڈ اسپانسرشپ معطل کرنے کا فیصلہ
امریکی انتظامیہ نے ہنرمند غیر ملکی کارکنوں سے متعلق امیگریشن پالیسی پر کریک ڈاؤن کو مزید وسیع کرتے ہوئے مائیکروسافٹ، ایڈوب، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وِپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور کوگنیزنٹ سمیت بھارت کی کئی بڑی آئی ٹی کمپنیوں اور معروف ٹیکنالوجی اداروں کو گرین کارڈ اسپانسرشپ پروگرام سے معطل کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ تحقیقات کے دوران مبینہ دھوکا دہی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مائیکروسافٹ نے گزشتہ سال 6 ہزار ورکرز کو ملازمت سے فارغ کیا اور اسی دوران کمپنی نے 6 ہزار 300 ایچ ون بی ویزوں اور تقریباً 3 ہزار گرین کارڈز سے فائدہ اٹھایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نکالا گیا ہر ایک ورکر کی جگہ ڈیڑھ غیر ملکی ملازم رکھا گیا۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ مائیکروسافٹ ایک بہترین امریکی کمپنی ہے لیکن اسے بہترین امریکی کارکنوں کو ملازمت دینا ہوگی، اور ہم اس شرمناک نظام کو مزید نہیں چلنے دیں گے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ نے تصدیق کی ہے کہ گرین کارڈ درخواستوں پر کارروائی روکنے کا فیصلہ مائیکروسافٹ اور ایڈوب کے علاوہ انفوسس اور کیپ جیمینی پر بھی لاگو ہوگا۔ ان کمپنیوں سے متعلق نئی مستقل لیبر سرٹیفکیشن درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور زیر التوا درخواستوں پر بھی کارروائی معطل رہے گی۔ امریکی محکمہ محنت کا مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ غیر ملکی کارکن کی تعیناتی سے مقامی امریکی کارکنوں کی اجرتوں یا ملازمت کے مواقع پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔
علاوہ ازیں، امریکی انتظامیہ نے ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت 9 معروف جامعات کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان تعلیمی اداروں نے ایکسچینج وزیٹر ویزا پروگرامز کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا ہے جس سے امریکی کارکنوں کی اجرتیں متاثر ہوئیں۔ ان اقدامات کو ہنرمند غیر ملکی کارکنوں سے متعلق پروگرامز کے خلاف اب تک کی سب سے وسیع کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔