ایم ڈی کیٹ 2026 پر اعتراضات، جماعت اسلامی کراچی کا پی ایم ڈی سی کو خط
دونوں یونیورسٹی روڈ پر واقع تھے، جہاں ٹریفک اور ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر کے باعث پہلے ہی آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ایم ڈی کیٹ 2026 پر اعتراضات، جماعت اسلامی کراچی کا پی ایم ڈی سی کو خط
کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتظامی مسائل پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو خط لکھ کر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر پی ایم ڈی سی پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کے نام خط میں منعم ظفر خان نے امتحانی نظام کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 20 ستمبر کو ہونے والے امتحان سے متعلق طلبہ و طالبات کی شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
خط کے مطابق کراچی میں 9 ہزار 505 امیدواروں کے لیے صرف دو امتحانی مراکز قائم کیے گئے، دونوں یونیورسٹی روڈ پر واقع تھے، جہاں ٹریفک اور ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر کے باعث پہلے ہی آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
منعم ظفر خان نے اپنے خط میں پشاور اور لاہور میں قائم امتحانی مراکز کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پشاور میں 16 ہزار 722 امیدواروں کے لیے 19، جبکہ لاہور میں 12 ہزار 64 امیدواروں کے لیے 6 مراکز بنائے گئے۔ ان کے مطابق کراچی کے امیدواروں کو شہر کے مختلف علاقوں سے یونیورسٹی روڈ کے محدود مراکز تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے ایم ڈی کیٹ جیسے اہم امتحان کے انعقاد کی ذمہ داری آئی بی اے سکھر کو دینے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی پرچہ واپس لینے سے متعلق ہدایات اور بائیولوجی، کیمسٹری اور فزکس کی جوابی کلیدوں پر سامنے آنے والے اعتراضات نے امتحان کی شفافیت کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔
خط میں پیپر کوڈ اے اور ڈی کی جوابی کلیدوں پر اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے نتائج میں ممکنہ ردوبدل کے خدشات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ امتحانی فیس کی مد میں پی ایم ڈی سی کی جانب سے وصول کیے گئے تقریباً ایک ارب 26 کروڑ 30 لاکھ روپے کا مکمل اور شفاف حساب عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے طلبہ کو صبح ساڑھے چھ بجے رپورٹنگ کے لیے بلانے اور شدید گرمی میں کئی گھنٹے انتظار کروانے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں امیدواروں کو سات سے آٹھ گھنٹے تک بٹھائے رکھنا نامناسب تھا۔
منعم ظفر خان نے مطالبہ کیا کہ امتحانی سوالنامہ تمام امیدواروں کو فراہم کیا جائے اور ابتدائی 100 نمبروں پر آنے والے امیدواروں کا کسی تیسرے، غیر جانب دار ادارے کے ذریعے دوبارہ امتحان لیا جائے۔
خط میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ آئندہ کراچی میں امتحانی مراکز امیدواروں کی تعداد اور شہر کے جغرافیائی پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیے جائیں۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے زور دیا کہ ایم ڈی کیٹ 2026 کے معاملے کی شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کرکے طلبہ کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ امتحانی نظام پر اعتماد بحال ہو سکے۔