لاء کالجوں کے امتحانی نتائج میں رد و بدل،ناظم امتحانات ڈاکٹر یاسر کو عہدے سے ہٹادیا گیا

جامعہ کراچی کے لاء کالجوں کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیاں،انکوائری کمیٹی تاحال قائم نہ ہوسکی

October 9, 2026 · قومی

جامعہ کراچی میں لاء کالجوں کے امتحانی نتائج میں مبینہ رد و بدل کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ناظم امتحانات کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ (فائل فوٹو)

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے سرکاری لاء کالجوں کے امتحانی نتائج میں مبینہ بے قاعدگیوں اور رد و بدل کا نوٹس لیتے ہوئے ناظم امتحانات ڈاکٹر محمد یاسر خان کو عہدے سے ہٹا دیا ہے اور انہیں اپنے شعبے میں تدریس کے لیے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے ان کی جگہ شعبہ فوڈ اینڈ سائنس کے ڈاکٹر غفران سعید کو ناظم امتحانات مقرر کردیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ نے لاء کالجوں کے فیل طلبا کو پاس کرنے سے متعلق خبر شائع کی تھی۔ تاہم، تاحال اس معاملے کی انکوائری کے لیے کوئی کمیٹی قائم نہیں ہوسکی اور نتائج میں رد و بدل کی باقاعدہ تحقیقات بھی شروع نہیں ہوئیں، جس کے باعث شواہد ضائع ہونے کے خدشات موجود ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ نئے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے امتحانی کاپیاں خود منگوا کر دیکھیں تو متعدد جوابی کاپیاں خالی تھیں، لیکن ان پر نمبر دیے گئے تھے۔

150 سے زائد فیل طلبا کو پاس کرنے کا معاملہ

جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے رئیس کلیہ قانون کی سفارش اور سبکدوش قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد کی منظوری سے 150 سے زائد قانون کے طلبا کو پاس کیا تھا، حالانکہ متعلقہ طلبا امتحانی کاپیوں اور جاری کردہ نتائج میں فیل تھے۔ ان طلبا کا تعلق بی اے ایل ایل بی، ایس ایم لاء کالج اور اسلامیہ کالج سے تھا۔

ایکسپریس نیوز نے پاس کیے گئے فیل طلبا کی امتحانی کاپیوں کے عکس، فیل اور پاس مارک شیٹس اور ایوارڈ شیٹس حاصل کرکے خبر نشر کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ڈین لاء نے متعلقہ کالجوں کے پرنسپلز کے ساتھ ایک مبینہ فرضی اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس کیا، جس کی کارروائی قائم مقام وائس چانسلر سے منظور کرانے کے بعد اس وقت کے ناظم امتحانات نے نتائج تبدیل کیے۔

تاہم، ڈین لاء اور ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل اس عمل کو قانونی قرار دیتے رہے۔

فیل طلبا کے نمبروں میں اضافے کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق ایل ایل بی کے متعدد طلبا اوبلیگیشن اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا کم نمبر لے کر فیل ہوئے تھے، تاہم مبینہ اسکروٹنی کے بعد ان کے نمبر بڑھا کر 50 سے 65 کے درمیان کردیے گئے اور انہیں پاس قرار دیا گیا۔

ایل ایل بی کے نتائج جاری ہونے کے بعد شعبہ امتحانات نے طلبا کو پہلے فیل اور بعدازاں اسکروٹنی کے بعد پاس ہونے کی مارک شیٹس جاری کی تھیں۔

5 اگست کو اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہوا

رپورٹ کے مطابق رئیس کلیہ قانون، متعلقہ دونوں لاء کالجوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم ہوئی، جس کا اجلاس 5 اگست کو رئیس کلیہ قانون کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے پیپر نمبر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم، یونیورسٹی کے قانون کے مطابق امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی گنجائش نہیں ہے۔

6 اگست کو مبینہ اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری برطرف ناظم امتحانات نے قائم مقام وائس چانسلر سے حاصل کی۔ منظوری میں دیگر متعلقہ کیسز کی اصطلاح شامل کرکے مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں بھی فیل طلبا کو پاس کیا گیا۔

منظوری ملنے کے بعد اسی روز ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل نے طلبا کو اسکروٹنی کے لیے درخواست دینے کو کہا، تاہم برطرف ناظم امتحانات نے اس اطلاع کو غلط قرار دیا تھا۔ دوسری جانب رئیس کلیہ قانون نے نتائج کی تبدیلی کو قانونی قرار دے کر رد و بدل کی تصدیق کی تھی۔

امتحانی ماہرین کے مطابق سالانہ نظام میں اسکروٹنی کے دوران صرف نمبروں کی دوبارہ گنتی کی گنجائش ہوتی ہے، جبکہ جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ یعنی ری اسسمنٹ نہیں کی جاسکتی۔

نتائج میں رد و بدل کے اس معاملے نے جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کے لیے چیلنج کھڑے کردیے ہیں، جبکہ تاحال باقاعدہ انکوائری شروع نہ ہونے کے باعث شواہد کے تحفظ سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔