ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی غیر موجودگی میں مقدمے کا ٹرائل شروع

مقدمے میں دونوں ملزمان اور ان کے وکلا کی عدم موجودگی میں ٹرائل شروع کرتے ہوئے استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔

October 10, 2026 · قومی
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی غیر موجودگی میں مقدمے کا ٹرائل شروع

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی غیر موجودگی میں مقدمے کا ٹرائل شروع

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق دہشت گردی کے مقدمے میں دونوں ملزمان اور ان کے وکلا کی عدم موجودگی میں ٹرائل شروع کرتے ہوئے استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔

مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ دوران سماعت عدالت نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق ملزمان کی درخواست بھی مسترد کر دی، جبکہ استغاثہ کے باقی گواہوں کو پیر کے روز طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

سماعت کے آغاز پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ ہادی علی چٹھہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور پہلے بھی پیش ہوتے رہے ہیں، تاہم شفاف ٹرائل کے بغیر مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھنی چاہیے۔

ہادی علی چٹھہ نے آئین کے آرٹیکل 10 کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ انہیں عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں فرد جرم عائد ہونے کا علم اگلے روز اخبار پڑھ کر ہوا۔

جج طاہر عباس سپرا نے جواب دیا کہ ملزمان نے فرد جرم کو چیلنج کر رکھا ہے اور اگر فرد جرم درست طریقے سے عائد نہیں ہوئی تو ہائی کورٹ اسے ختم کر سکتی ہے۔ عدالت نے جیل اہلکار سے بھی دونوں ملزمان کو پیش نہ کرنے کی وجہ دریافت کی۔

دوران سماعت ملزمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے اعتراض اٹھایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی عدم موجودگی میں کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ انہوں نے اس اعتراض کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی۔

بعد ازاں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کمرہ عدالت چھوڑ دیا۔ اس کے بعد عدالت نے استغاثہ کے تین گواہوں، جن میں مقدمے کے اندراج سے متعلق گواہ، محرر اور جامہ تلاشی سے متعلق گواہ شامل تھے، کے بیانات ریکارڈ کیے۔

عدالت نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کے موجودہ مرحلے پر اس درخواست پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ جج طاہر عباس سپرا نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے سابقہ حکم پر نظرثانی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

عدالت نے باقی گواہوں کو پیر کے روز طلب کر لیا اور مقدمے کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔