گولڈ میڈلسٹ بیٹی کے لیے دودھ فروش والد نے پلاٹ بیچ کر ٹریول ایجنٹ کو رقم دی
پولیس نے تھانہ رمنا کے علاقے جی 10 میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر رکھی ہے
گولڈ میڈلسٹ بیٹی کے لیے دودھ فروش والد نے پلاٹ بیچ کر ٹریول ایجنٹ کو رقم دی
اسلام آباد میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والی طالبہ لائبہ کے معاملے میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھی، جس کے لیے اس کے والد نے پلاٹ فروخت کرکے ٹریول ایجنٹ کو لاکھوں روپے ادا کیے تھے۔
پولیس نے تھانہ رمنا کے علاقے جی 10 میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر رکھی ہے۔ پولیس کے مطابق طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی، جس کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔
اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی اور وہ مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے ایک تعلیمی مشیر نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے نام پر 70 لاکھ روپے طلب کیے تھے۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ طالبہ کے والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے تھے۔ کرائے کے مکان میں رہنے والے والد نے بیٹی کے مستقبل کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور مبینہ طور پر 21 لاکھ روپے نقد ایجنٹ کو ادا کیے۔
ذرائع کے مطابق باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے طالبہ کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوائے گئے۔ تاہم جب لائبہ نے یونیورسٹی میں داخلے سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کروائی تو وہ جعلی نکلیں۔
اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے آخری پیغام اپنے ماموں کو بھیجا تھا، جس میں اس نے درخواست کی کہ اس کے ساتھ ہونے والے مبینہ فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے، کیونکہ یہ خبر ان کے لیے ناقابل برداشت ہوگی۔
پولیس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے، جبکہ طالبہ کی موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔