بھارت میں اسٹار لنک سروس کی انٹری میں تاخیر پر ایلون کا امبانی پر طنز

میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ آپ ہی بھارت کے اصل باس ہیں،ٹویٹ

October 10, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

ایلون مسک نے جمعہ کو ایک طنز آمیز پوسٹ میں بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کووزیر اعظم امبانی کہہ کر مخاطب کیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ بھارت میں اپنے ٹیلی کام کے اجارہ داری کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسک نے لکھا: محترم وزیر اعظم امبانی، م میری عاجزانہ معذرت قبول کریں کہ میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ آپ ہی بھارت کے اصل باس ہیں۔ قدرتي طور پر آپ بھارت کے عظیم عوام کا اجارہ دارانہ استحصال جاری رکھنا پسند کریں گے، لیکن کیا آپ پھر بھی اسٹارلنک کو مقابلے کی اجازت دینے پر غور کریں گے؟ بھارت کے کئی علاقوں میں آج بھی انٹرنیٹ نہیں ، جس کی وجہ سے بچوں کو تعلیم اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی مارکیٹ تک رسائی نہیں مل پاتی۔ اسٹارلنک ان کی زندگیاں بہتر بنا سکتا ہے۔ شکریہ۔”

اس کے فوراً بعد مسک نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ قدرتی آفات کے وقت جب دوسرے تمام مواصلاتی نظام ناکام ہو جاتے ہیں تو اسٹارلنک دنیا بھر میں جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوا ہے، اس لیے یہ بھارت میں بھی مردوں، عورتوں اور بچوں کی جان بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ پوسٹ اس تناظر میں سامنے آئی ہے کہ اسپیس ایکس کی سٹارلنک سروس کو بھارت میں کمرشل آپریشن شروع کرنے کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سٹارلنک کو 2025 میں جی ایم پی سی ایس لائسنس مل چکا ہے، لیکن سیکیورٹی کلیئرنس اور سپیکٹرم الاٹمنٹ کا انتظار ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ تین کمپنیاں (اسٹارلنک، جیو سیٹلائٹ اور ون ویب) تقریباً ایک ہی مرحلے پر ہیں اور کسی کو اجارہ داری نہیں دی جا رہی۔

ٹیلی کام وزیر جیوتی رادتیہ سندیا نے مسک کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا۔

اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی۔ کچھ لوگوں نے مسک کے موقف کی حمایت کی تو کچھ نے ان پر بھارتی قوانین اور سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ اس بحث میں ٹیسلا کی اجارہ داری ور چینی کمپنی بی وائی ڈی کا امریکی مارکیٹ میں داخلہ جیسے موازنے بھی سامنے آئے۔

واضح رہےکہ اسٹارلنک کو لائسنس تو مل چکا ہے، لیکن سیکیورٹی کلیئرنس اور سپیکٹرم ابھی تک نہیں ملا۔ مسک کا الزام ہے کہ مقامی بڑی کمپنیاں (خاص طور پر جیوجس کے مالک امبانی ہیں) اس میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ بھارتی حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سب کمپنیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو رہا ہے۔

یادرہے کہ جیو، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کی ایک ذیلی کمپنی ہے، اور مکیش امبانی اس پورے گروپ کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر اور فیصلہ ساز ہیں۔