وزیراعظم کا اسلام آباد میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی خودکشی کا نوٹس، ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم
افسوس ناک واقعہ، جعلی دستاویزات کا انکشاف، وزیر اعظم کی سخت ہدایات
اسلام آباد میں طالبہ کی خودکشی اور فراڈ کے واقعے پر وزیراعظم نے نوٹس لے لیا
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی مبینہ خودکشی کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور چیف کمشنر کو طالبہ کے ساتھ فراڈ کرنے والے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کو فوری حراست میں لے کر قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
پولیس حکام کے مطابق تھانہ رمنا کی حدود میں اتوار بازار کے قریب گرین بیلٹ میں ایک درخت سے 20 سالہ طالبہ لائبہ کی لاش برآمد ہوئی جو کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ اور جی 10 مرکز کی رہائشی تھیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ خودکشی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے تاہم پولیس نے واقعے کی جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
دستاویزات اور ورثا کے بیانات کے مطابق، متوفیہ امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں فزکس کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند تھی۔ ایک ایجنٹ اور کنسلٹنٹ نے اسے امریکہ بھجوانے کے لیے 70 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ بچی کے مستقبل کی خاطر والد نے اپنا پلاٹ فروخت کر کے 21 لاکھ روپے نقد فراڈیے کو دیے جبکہ باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے والدہ کا زیور بھی بینک میں گروی رکھوایا گیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ ایجنٹ کی فراہم کردہ تمام دستاویزات بشمول یونیورسٹی کا داخلہ، ویزا اور بینک اسٹیٹمنٹس سراسر جعلی تھیں۔
اہل خانہ نے بتایا کہ جعلی دستاویزات کا انکشاف ہونے کے بعد طالبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی تھی۔ وہ دوپہر کے وقت گھر سے بغیر بتائے نکلی تھی اور موبائل لوکیشن کی مدد سے اہل خانہ گرین بیلٹ تک پہنچے۔ طالبہ نے اپنے ماموں کو آخری پیغام میں لکھا تھا کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کا والد کو ہرگز نہ بتایا جائے ورنہ وہ صدمہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش کی تکمیل کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔