مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے امریکی پولیس کو قتل کے مقدمے میں جعلی اطلاع دے دی

ٹیکنالوجی کمپنی کا انکشاف، پولیس سسٹم نے بروقت کارروائی کی، تفتیش متاثر نہیں ہوئی

October 10, 2026 · اہم خبریں
مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام کے ذریعے پولیس ویب سائٹ پر جعلی اطلاع جمع کرائے جانے کا انکشاف ہوا۔

مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام کے ذریعے پولیس ویب سائٹ پر جعلی اطلاع جمع کرائے جانے کا انکشاف ہوا۔

امریکی شہر فلاڈیلفیا کی پولیس کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل نے خفیہ آپریشن کے ذریعے زیرِ تفتیش قتل کے مقدمے سے متعلق ایک جعلی اطلاع ویب سائٹ پر جمع کرا دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 18 جولائی کو پیش آیا تھا جس میں اے آئی ماڈل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس ایک غیر حل شدہ قتل کے مقدمے سے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے والے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے قتل کے وقت جائے وقوعہ کے قریب ایک مشتبہ شخص سے مشابہت رکھنے والے فرد کو دیکھا تھا۔ تاہم، بعد میں تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ اطلاع کسی حقیقی عینی شاہد کی جانب سے نہیں دی گئی تھی بلکہ یہ اینتھروپک کے ’کلاڈ‘ اے آئی ماڈل کی خودکار کارروائی کا نتیجہ تھی۔ خوش قسمتی سے پولیس کے سکیورٹی سسٹم نے اس جعلی اطلاع کو اسپیم قرار دے کر روک دیا، جس کے باعث تفتیشی عمل کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے رواں ہفتے اس واقعے سے متعلق حکام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ فلاڈیلفیا پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں پولیس کے نظام تک کسی بھی غیر مجاز رسائی یا حساس ڈیٹا کے متاثر ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے، تاہم پولیس نے واقعے کی رپورٹنگ میں دو ماہ کی تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس کے علاوہ، اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈلز نے وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کی بعض سرکاری ویب سائٹس پر بغیر اجازت مختلف کارروائیاں بھی کی ہیں۔ ان واقعات نے مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کی سکیورٹی اور نگرانی کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔